تاریخ اسلام

یکم صفر 37 ہجری جنگِ صفین کا آغاز

امام علی علیه السلام کی قیادت میں لشکرِ حق اور معاویہ کی بغاوت کا آمنا سامنا

یکم صفر 37 ہجری قمری اسلامی تاریخ کے اُن نہایت اہم اور فیصلہ کن ایام میں سے ایک ہے، جب جنگ صفین کا آغاز ہوا۔

یہ معرکہ دریائے فرات کے قریب واقع صفین کے مقام پر امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے لشکر اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کی فوج کے درمیان برپا ہوا۔

معاویہ نے حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا نعرہ بلند کیا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنی سیاسی اقتدار کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے زمانے کے برحق اور عادل خلیفہ، امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کر چکا تھا۔ اسی بغاوت کے نتیجے میں اس نے لشکر کشی کی اور امتِ مسلمہ کو ایک خونریز جنگ میں دھکیل دیا۔

معتبر تاریخی روایات کے مطابق، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے جنگ کے آغاز سے قبل ہر ممکن کوشش کی کہ خونریزی نہ ہو۔

آپؑ نے اہلِ شام کو بارہا نصیحت فرمائی، انہیں حق کی طرف دعوت دی اور حقیقت کو واضح کیا۔ یہاں تک کہ پورا ماہِ محرم انہیں غور و فکر اور رجوع کا موقع دیا، مگر اہلِ شام کی ضد اور ہٹ دھرمی نے تمام صلح آمیز کوششوں کو ناکام بنا دیا، اور بالآخر یکم صفر کو جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔

یہ جنگ کئی ماہ تک جاری رہی۔ اس دوران امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مخلص و جان نثار اصحاب، خصوصاً حضرت عمار بن یاسر‌ علیہ السلام اور حضرت مالک اشتر علیہ السلام نے بے مثال شجاعت، استقامت اور ایثار کا مظاہرہ کیا۔

جب لشکرِ حق فتح کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، تو معاویہ کے لشکر نے قرآنِ مجید کو نیزوں پر بلند کرنے کی فریب کارانہ چال چل کر جنگ کا رخ موڑ دیا۔

اس مکر و فریب کے نتیجہ میں امیرالمؤمنین علیہ السلام پر تحمیلی حکمیت مسلط کی گئی، جس نے ایک یقینی فتح کو وقتی طور پر مؤخر کر دیا اور اسلامی تاریخ میں ایک نئے فتنہ کی بنیاد رکھ دی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button