معاویہ بن یزید کی اموی خلافت سے دستبرداری؛ منبرِ دمشق پر حقیقت افشاں خطبہ اور سانحۂ عاشورا کے بعد بیداری

25 ربیع الثانی 64 ہجری کو خلافتِ امویہ کی تاریخ کا ایک نہایت اہم واقعہ پیش آیا، جب معاویہ بن یزید المعروف بہ معاویہ ثانی نے از خود اقتدار سے دستبرداری اختیار کر لی۔
اسی سال ربیع الاول کے وسط میں یزید بن معاویہ کی ہلاکت کے بعد اس کا جوان سال بیٹا مسندِ خلافت پر بیٹھا، لیکن اس کی حکمرانی کا دورانیہ صرف تقریباً چالیس روز پر محیط رہا۔
معاویہ ثانی نے 25 ربیع الثانی کو منبرِ دمشق پر ایک حقائق آشکار کرنے والا خطبہ دیا اور باضابطہ طور پر خود کو منصبِ خلافت سے معزول کر دیا۔
اس نے اس دو ٹوک اور صریح خطبہ میں اپنے جد معاویہ اور اپنے والد یزید کے مظالم اور انحرافات کو بیان کیا۔
اس نے خاندانِ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ڈھائے جانے والے ستموں اور حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی شہادت کے عظیم جرم کا ذکر کرتے ہوئے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کو واضح کیا۔
اس نے بنی امیہ کی جانب سے جانشین مقرر کرنے کی پیشکش کو ٹھکرا دیا اور اسلامی معاشرے پر مسلط ناجائز حکومت کے گناہ و وبال کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ جراتمندانہ اقدام جو سانحہ عاشورا کے بعد پیدا ہونے والی آگہی اور روشنی سے متاثر تھا، حکومتِ امویہ کی مشروعیت کے بحران کو آشکار کر گیا اور تاریخِ اسلام میں سفیانی خاندان کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔
اس تاریخی دستبرداری کے صرف چند ہفتے بعد معاویہ ثانی کی بے جان لاش پراسرار طور پر بستر پر پائی گئی۔
اکیس سال کی عمر میں اس جوان خلیفہ کی ناگہانی اور پراسرار موت نے زہر خورانی اور اس کے دو ٹوک انکشافات کے جواب میں درباری انتقام کے شبہ کو مزید تقویت بخشی۔




