شہادت سکون نفس مطمئنہ حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا

شام کی وہ سیاہ رات تھی جس میں تاریکی بھی غمِ اہلِ بیت علیہم السلام پر اشکبار محسوس ہوتی تھی۔ کھنڈرات کی ٹوٹی ہوئی دیواریں، زنجیروں کی جھنکار، یتیم بچوں کی سسکیاں اور بیبیوں کی دبیز آہیں، سب مل کر ایک ایسا ماتم برپا کئے ہوئے تھیں جس کی مثال تاریخِ انسانیت پیش نہیں کر سکتی۔
اسی زندان کے ایک گوشے میں سکونِ نفسِ مطمئنہ، نورِ نظرِ حسین، قرۃُ العینِ سیدالشہداء، نگینۂ خاندانِ نبوت، حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا بابا کی یاد میں سراپا انتظار تھیں۔ ہر آہ میں "بابا”، ہر آنسو میں "حسینؑ”، اور ہر دھڑکن میں کربلا کی تڑپ سمٹی ہوئی تھی۔
جب سرِ اقدسِ سیدالشہداء علیہ السلام ان کے سامنے رکھا گیا تو گویا برسوں کی پیاسی روح کو اپنے بابا کا دیدار نصیب ہوگیا۔ ننھے کانپتے ہوئے ہاتھ بڑھے، لرزتے ہوئے لب پیشانیِ اقدس سے آ لگے، اور آنسوؤں نے خونِ شہادت سے آمیختہ چہرۂ انور کو دھونا شروع کر دیا۔
زبانِ حال سے گویا عرض کر رہی تھیں: "بابا…! آپ نے فرمایا تھا، سکینہ! صبر کرنا… میں نے بہت صبر کیا بابا۔ کربلا کی جلتی ریت بھی برداشت کی، خیموں کی آگ بھی دیکھی، کوفہ و شام کے بازار بھی دیکھے، طمانچوں کی ضرب بھی سہی، قید کی راتیں بھی گزاریں. مگر آپ کی جدائی اب برداشت نہیں ہوتی۔ بابا! آج مجھے بھی اپنے سینے سے لگا لیجیے، اب سکینہ تھک گئی ہے…”
یوں محسوس ہوا جیسے فضا نے سانس روک لی ہو، دیواریں جھک گئی ہوں، فرشتے خاموش کھڑے ہوں، اور زندان کی تاریکی بھی اشک بہا رہی ہو۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا قریب پہنچیں۔ ننھی سکینہؑ کے لب خاموش تھے، مگر چہرے پر ایک عجیب سکون تھا؛ گویا برسوں بعد بابا کی آغوش نصیب ہوئی ہو۔
حضرت زینبؑ نے بھتیجی کو سینے سے لگایا۔
زبانِ حال سے گویا پکار اٹھیں: "بھائی حسین! کربلا میں آپ نے فرمایا تھا: زینب! میری سکینہ کا خیال رکھنا۔ بھائی! میں نے اپنی جان سے بڑھ کر اس امانت کی حفاظت کی، مگر آپ کی یاد کے سامنے میری ہر کوشش بے بس ہوگئی۔ دیکھیں، آپ کی سکینہ اب آپ کے پاس آگئی ہے۔ بھائی! شام کی قید نے میری گود بھی ویران کر دی…”
حضرت رباب سلام اللہ علیہا اپنی لختِ جگر کے پاس آئیں۔ کبھی ماتھا چومتیں، کبھی بال سنوارتیں، کبھی سینے سے لگا لیتیں۔
زبانِ حال سے گویا عرض کرتیں: "سکینہ! ذرا آنکھیں تو کھولو بیٹی… دیکھو، تمہاری ماں آئی ہے۔ ابھی تو تم بابا کو پکار رہی تھیں، اب ماں کو بھی تنہا چھوڑ دیا؟ پہلے علی اصغرؑ میری گود سے جدا ہوئے، اب تم بھی رخصت ہوگئیں۔ اے میرے مولا حسینؑ! رباب کی گود آج مکمل ویران ہوگئی…”
امام زین العابدین علیہ السلام زنجیروں کی جھنکار کے ساتھ آگے بڑھے۔ بیماری سے نڈھال جسم، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، پاؤں میں بیڑیاں، گردن میں طوق… مگر دل میں بہن کی جدائی کا سمندر موجزن تھا۔
جھک کر بہن کے چہرے سے گرد صاف کی اور اشکوں سے رخسار تر کر دیے۔
زبانِ حال سے گویا فرما رہے تھے: "اے میری بہن! بابا کے بعد تم یتیم بچوں کا سہارا تھیں۔ آج تم بھی چلی گئیں۔ دیکھو ہماری بے بسی! نہ کفن میسر ہے، نہ قبر کی آزادی، نہ جنازے کی عزت۔ مگر گواہ رہنا، اے سکینہ! تمہارا یہ غم بھی کربلا کے پیغام کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا…”
اس رات شام کا زندان صرف ایک قید خانہ نہ تھا، بلکہ غمِ آلِ محمدؐ کا مرکز بن گیا تھا۔ دیواریں گریہ کرتی تھیں، زنجیریں نوحہ پڑھتی تھیں، فرشتے اشک بہاتے تھے، اور عرشِ الٰہی سے رحمت و سلام کے نزول کا احساس ہوتا تھا۔
وہ معصوم شہزادی جسے مدینہ میں بابا کے شانے نصیب تھے، آج شام کے کھنڈرات میں آسودۂ خاک تھی۔
وہ ننھی کلی جو امام حسین علیہ السلام کی مسکراہٹ تھی، فراقِ پدر میں ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی، مگر اس کی خاموشی رہتی دنیا تک مظلومیتِ کربلا کی سب سے دردناک صدا بن گئی۔
اے دختر مصطفیٰ، اے بنت مرتضیٰ، اے نور نظر فاطمہ زہرا، اے سکون نفس مطمئنہ بی بی سکینہ آپ پر، آپ کے آباء طاہرین پر، آپ کی پھوپھی زینب و ام کلثوم پر، آپ کے چچا عباس علمدار پر درود و سلام
بی بی سکینہ آپ پر، آپ کے شہید و اسیر بھائیوں پر اور آپ کے معصوم بھتیجوں پر سلام۔




