امام حسن عسکری علیہ السّلام کی گناہوں کو معمولی سمجھنے اور پوشیدہ شرک سے متعلق اہم اخلاقی نصیحت

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے گناہوں کو معمولی سمجھنے کے خطرناک نتائج سے خبردار کرتے ہوئے انسان کو اپنی نیتوں، اعمال اور باطنی کیفیت کی مسلسل نگرانی کی تاکید فرمائی ہے۔ آپؑ نے انسان کے وجود میں شرک کی پوشیدہ آمیزش کو تاریک رات میں سخت پتھر پر چلنے والی چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ مخفی قرار دیا ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کی اخلاقی تعلیمات میں تزکیۂ نفس، محاسبۂ نفس اور اعمال و نیتوں کی نگرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
انسان کی روحانی ترقی کی راہ میں ایک خطرناک آفت یہ ہے کہ وہ کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر اس کے ارتکاب پر بے اعتنائی اختیار کرے۔ گناہ کو چھوٹا سمجھنا انسان کو رفتہ رفتہ احکام الٰہی کے مقابل بے باک بنا سکتا ہے اور اسے مزید لغزشوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اسی سلسلہ میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی ابو ہاشم جعفری سے ایک قابلِ توجہ روایت نقل ہوئی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امامؑ کو فرماتے ہوئے سنا: "مِنَ الذُّنُوبِ الَّتِي لَا تُغْفَرُ قَوْلُ الرَّجُلِ: يَا لَيْتَنِي لَا أُؤَاخَذُ إِلَّا بِهَذَا.” ’’ان گناہوں میں سے جنہیں بخشا نہیں جاتا، ایک یہ ہے کہ انسان کہے: کاش! مجھ سے صرف اسی گناہ کے بارے میں بازپرس کی جاتی۔‘‘
اس فرمان کا اہم اخلاقی پہلو یہ ہے کہ انسان صرف گناہ کے ارتکاب ہی سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ گناہ کو معمولی سمجھنا اور اس کی قباحت کو کم تر سمجھنا بھی خطرناک روحانی کیفیت ہے۔ جب انسان کسی گناہ کو حقیر سمجھنے لگتا ہے تو اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں بے حسی پیدا ہو سکتی ہے۔
ابو ہاشم جعفری نے امام حسن عسکری علیہ السّلام کے اس فرمان پر غور کیا اور اپنے دل میں سوچا کہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی تمام حرکات و سکنات اور نیتوں کے بارے میں انتہائی محتاط رہے اور اپنے نفس کا مسلسل محاسبہ کرتا رہے۔
اسی موقع پر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے ان سے فرمایا: "يَا أَبَا هَاشِمٍ، صَدَقْتَ، الْزَمْ مَا حَدَّثَتْ بِهِ نَفْسَكَ، فَإِنَّ الشِّرْكَ فِي النَّاسِ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا فِي اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ، وَأَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ عَلَى المِسْحِ الأَسْوَدِ.” ’’اے ابو ہاشم! تم نے درست کہا۔ اپنے دل میں جو بات سوچی ہے، لازم ہے اس پر عمل کرو، کیونکہ لوگوں میں شرک کی آمیزش تاریک رات میں صاف اور سخت پتھر پر چیونٹی کے چلنے سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے اور سیاہ کپڑے پر چیونٹی کے چلنے سے بھی زیادہ مخفی ہے۔‘‘
امام حسن عسکری علیہ السلام کا یہ بلیغ ارشاد انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ باطنی کمزوریاں ہمیشہ واضح صورت میں ظاہر نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات ریا، خودپسندی، غیر اللہ پر غیر مناسب انحصار یا دنیاوی خواہشات کی ایسی آمیزش انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے جس کا اسے خود بھی احساس نہیں ہوتا۔
اسی لئے مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ محض ظاہری اعمال پر اکتفا نہ کرے بلکہ اپنی نیت، فکر، کردار اور باطن کا بھی مسلسل جائزہ لیتا رہے۔ گناہ کو معمولی سمجھنے سے بچنا، اپنے نفس کا محاسبہ کرنا اور ہر قسم کی پوشیدہ آلودگی سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا، امام حسن عسکری علیہ السلام کی اس اخلاقی تعلیم کا بنیادی پیغام ہے۔




