کابل میں حوزۂ علمیہ خاتمالنبیین کے درجنوں اساتذہ اور طلبہ گرفتار؛ افغانستان میں دینی و مذہبی مراکز پر دباؤ اور بدامنی کی نئی لہر
کابل میں حوزۂ علمیہ خاتمالنبیین کے درجنوں اساتذہ اور طلبہ گرفتار؛ افغانستان میں دینی و مذہبی مراکز پر دباؤ اور بدامنی کی نئی لہر
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دینی مراکز اور حوزہ ہائے علمیہ کے خلاف سخت گیر اقدامات نے شہریوں اور علمائے دین میں تشویش اور عوامی احتجاج کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
مغربی کابل میں طالبان پولیس کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کے مذہبی مرکز اور حوزۂ علمیہ خاتمالنبیین صلی اللہ علیہ وآلہ پر دھاوے کے بعد اس مرکز سے وابستہ درجنوں اساتذہ، طلبہ اور ذمہ داران کو گرفتار کرکے سکیورٹی مراکز منتقل کر دیا گیا۔
روزنامہ 8 صبح کے مطابق، طالبان فورسز نے حوزۂ علمیہ میں داخل ہوکر اس سے وابستہ 28 افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے چار افراد کو رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ 24 افراد تاحال زیرِ حراست ہیں۔
علاقے کے احتجاج کرنے والے رہائشیوں کے ساتھ مبینہ طور پر پرتشدد رویے اور اس تاریخی دینی مرکز کو جبراً خالی کرانے کی کوشش کے باعث کابل میں عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج اور تشویش پیدا ہوئی ہے۔




