تاریخ اسلام

یوم وفات حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام؛ ولایت کے وارث اور تاریخِ تشیع میں فضیلت کا نمونہ

امام محمد تقی جواد علیہ السلام کے فرزند اور امام علی نقی الہادی علیہ السلام کے بھائی حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام 214 ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔

ان کی والدہ جنابِ سمانہ سلام اللہ علیہا نہایت نیک خصائل خاتون تھیں جو ام الفضل کے نام سے مشہور تھیں۔

آپ نے قم کی طرف ہجرت کے بعد اس شہر کی اہم اور محترم شخصیات میں شمار ہونا شروع کیا اور بالآخر 22 ربیع الثانی 296 ہجری قمری کو 82 برس کی عمر میں وفات پائی۔

آپ کا مزار قم کے محلہ موسویان میں روضہ چہل اختران کے جوار میں واقع ہے اور اس وقت سے شیعیانِ اہلِ بیت کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام بے پناہ جمال رکھتے تھے اس لئے وہ چہرے پر نقاب ڈال کر نظر بد سے بچتے تھے، اسی سبب آپ کو "مبرقع” یعنی نقاب پوش کہا جاتا ہے۔

مقدس شہر قم کے ساداتِ برقعی تمام تر انہی کی نسل سے ہیں۔

وہ ہمیشہ اپنے والد اور بھائی کی ولایت کے مطیع و فرمانبردار رہے اور اپنی زندگی ان کے دفاع میں گزار دی۔

قم میں آپ کا شاندار استقبال کیا گیا اور وہاں آپ نے بلند سماجی مقام حاصل کیا۔

ایک ثقہ اور معتبر راوی کے طور پر آپ سے بکثرت احادیث نقل ہوئی ہیں اور ہر سال ایامِ عزاداریِ حسینی میں آپ کے روضہ مبارک کے صحن میں خصوصی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button