سوڈان جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے پر آزادانہ اور غیر جانبدار تحقیقات کے لئے بین الاقوامی مطالبات میں اضافہ
سوڈان جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے پر آزادانہ اور غیر جانبدار تحقیقات کے لئے بین الاقوامی مطالبات میں اضافہ
بین الاقوامی ماہرین اور قانون دانوں کے ایک گروہ نے جنگِ سوڈان میں حقیقت کو واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے بارے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ان ماہرین اور قانون دانوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی گروہ پر الزام عائد کرنے سے پہلے موجودہ شواہد کا ماہر ٹیموں کے ذریعے جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ سیاسی مداخلت کے بغیر حقیقت سامنے آ سکے۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
ماہرین کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فلموں، تصاویر اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے پر شہریور 1403 (ستمبر 2024) کے دوران خرطوم کے شمال میں واقع الجیلی ریفائنری میں جھڑپوں کے دوران کیمیائی مواد کے ممکنہ استعمال کے آثار ملے ہیں۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جائے وقوعہ تک براہِ راست رسائی نہ ہونے، خاص طور پر طویل وقت گزر جانے اور شواہد کے ضائع ہو جانے کے امکان کے باعث ابھی تک کیمیائی مادے کی نوعیت یا اس حملے کے ذمہ دار فریق کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔
اسی دوران قانون دان خبردار کر رہے ہیں کہ جائے وقوعہ کا باریک بینی سے معائنہ کیے بغیر کسی بھی فریق کو قصوروار قرار نہیں دینا چاہیے۔
فرانس 24 کی شائع کردہ رپورٹوں کے مطابق درست نتیجے تک پہنچنے کے لیے بین الاقوامی معائنہ کاروں کو لازمی طور پر جائے وقوعہ پر جانا، ضروری نمونے جمع کرنا اور انہیں معتبر تجربہ گاہوں میں جانچنا ہوگا۔
یہ طویل مگر ضروری عمل ہی افواہوں، بے بنیاد دعوؤں اور عجلت میں فیصلہ سازی کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
یہ مطالبات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکومت نے دعویٰ کیا کہ سوڈانی حکومت نے 2024 کی لڑائیوں میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں؛ اسی دعوے کی بنیاد پر تیر 1405 (جولائی 2026) میں خرطوم کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی گئیں۔
اس کے جواب میں سوڈانی حکام نے ان تمام الزامات کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے پابند ہیں۔
جنگ کے جاری رہنے اور عام سوڈانی شہریوں کی زندگی مزید دشوار ہونے کے ساتھ، انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں صرف ایک باضابطہ اور غیر جانبدارانہ تفتیش ہی حقیقت کو واضح کر سکتی ہے۔
مزید برآں امدادی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ لڑائیوں کا تسلسل اور اس مقدمے کا التوا میں پڑا رہنا متاثرین تک انسانی امداد کی ترسیل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ موجودہ شواہد کی حفاظت اور سیاسی ہنگامہ آرائی سے اجتناب انصاف کی فراہمی کی اہم ترین شرط ہے۔




