خبریںدنیا

امریکی فوج کے جریدے کا مشرقِ وسطیٰ میں شیعوں کے کردار پر تجزیہ

امریکی فوج کے جریدے کا مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل میں شیعوں کے فیصلہ کن کردار پر تبصرہ، شیعہ طاقت کو عالمِ اسلام میں برابر کا شریک تسلیم کرنے پر زور

امریکی فوج کے ایک تخصصی جریدے نے اپنے ایک ریٹائرڈ سینئر کمانڈر کے تجزیاتی مضمون میں تشیع کی طاقت کی تاریخی اور روحانی جڑوں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل مغربی ماڈل پر نہیں بنے گا، بلکہ شیعہ اور سنی کے درمیان مفاہمت اور پرامن بقائے باہمی پر منحصر ہے۔

رپورٹ میں شیعہ برادری کو خطے میں طاقت کے نئے توازن کی تشکیل میں برابر اور ناگزیر شریک قرار دیا گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ دہائیوں کی سیاسی اور جیو پولیٹیکل تبدیلیوں نے کئی مغربی تھنک ٹینکس اور اسٹریٹجک جرائد کی توجہ اسلام کی روحانیت اور اصالت کی طرف مبذول کرائی ہے۔

اسی تناظر میں شیعہ برادری کی سیاسی بیداری اور علاقائی مساوات پر اس کے گہرے اثرات امریکی عسکری و دفاعی میڈیا میں ایک مفصل تجزیاتی موضوع بن چکے ہیں تاکہ اس علمی، سیاسی اور عوامی طاقت کی جڑوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔

امریکی فوج کے تخصصی جریدے کے مطابق ریٹائرڈ کرنل رچرڈ ایورٹ نے ولی نصر کی کتاب "دی شیعہ ریوائیول” (احیائے شیعہ) پر تبصرہ کرتے ہوئے تشیع کے تاریخی اور فکری محرکات کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔

ڈاکٹر سید ولی رضا نصر، معروف اسلامی اسکالر پروفیسر سید حسین نصر کے فرزند ہیں، جو جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکہ میں اسلامی علوم کے استاد ہیں۔ وہ 1960ء میں تہران میں پیدا ہوئے۔

ڈاکٹر ولی رضا نصر ایرانی نژاد امریکی اسلام شناس، یونیورسٹی پروفیسر، سیاسی مفکر اور بین الاقوامی امور کے ماہر ہیں۔ وہ جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور 2012 سے 2019 تک اس مرکز کے سربراہ رہے ہیں، نیز بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو بھی ہیں۔

وہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دورِ صدارت میں ان کے مشیر بھی رہ چکے ہیں اور وائٹ ہاؤس اور امریکی میڈیا میں عالمِ اسلام سے متعلق امور میں ان کی رائے لی جاتی ہے۔ انہوں نے متعدد مقالات اور کتابیں تحریر کی ہیں۔

کرنل رچرڈ ایورٹ نے اپنی اس تحریر میں واقعہ کربلا اور حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو شیعوں کے لئے استقامت، ظلم ستیزی اور پائیداری کا بنیادی سرچشمہ قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ عاشورا اور ایثار کی ثقافت ہی پوری تاریخ میں شیعہ معاشروں کی بیداری اور مزاحمت کی بنیاد رہی ہے۔

یہ امریکی تجزیہ نگار ایران اور عراق میں معاصر تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ کس طرح شیعوں کے مذہبی روابط اور علمی و دینی یکجہتی کے فروغ نے مشرقِ وسطیٰ میں خود اعتمادی اور فیصلہ کن اثر و رسوخ کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔

یہ فوجی جریدہ کرنل ایورٹ کے حوالے سے مزید لکھتا ہے کہ مغرب کی جانب سے درآمد شدہ ماڈلز کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ کو از سرِ نو تشکیل دینے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

وہ اپنے واضح خلاصہ میں تاکید کرتے ہیں: "مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل مغربی معاشی یا سیاسی نظاموں پر استوار نہیں، بلکہ اسلام کی دو بڑی برادریوں یعنی شیعہ اور سنی کے درمیان مفاہمت اور تعمیری تعامل پر منحصر ہے۔”

اس سابق فوجی افسر نے تصریح کی کہ وہ دور ختم ہو چکا ہے جب بیرونی طاقتیں خطہ کی اقوام پر اپنی مرضی مسلط کر سکتی تھیں، اب مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر خود اس خطے کے عوام کے ہاتھوں لکھی جائے گی۔

پینٹاگون سے وابستہ اس تجزیاتی میڈیا کے اعتراف کے مطابق، شیعوں کی بیداری کوئی عارضی مظہر نہیں، بلکہ ایک اصیل تاریخی شناخت کا احیاء ہے جسے مشرقِ وسطیٰ کی مساوات میں نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔

رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ عالمِ اسلام میں ہر قسم کا استحکام، سلامتی اور پائیدار ترقی اس بات سے مشروط ہے کہ شیعوں کو علاقائی فیصلہ سازی کے تمام شعبوں میں برابر، بااختیار اور بااثر شراکت دار کے طور پر مکمل طور پر تسلیم کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button