یورپ

حجاب سے کھانے کی میز تک؛ فرانس کا انتہاپسند دایاں بازو مسلمانوں کی روزمرہ زندگی کو کیسے نشانہ بنا رہا ہے؟

فرانس میں مسلمانوں پر دباؤ اب صرف سیاست اور انتخابات تک محدود نہیں رہا۔ دائیں بازو کے انتہاپسند عناصر اب خواتین کے لباس، حلال کھانے اور لوگوں کی روزمرہ خوراک تک کو نشانہ بنا رہے ہیں اور مسلمانوں کی موجودگی کو ملک میں غیر قانونی یا اجنبی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس موضوع کا جائزہ لینے والی میرے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

فرانس میں قومی شناخت اور مسلمانوں کی موجودگی پر بحث روز بروز زیادہ سخت اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

انتہاپسند دائیں بازو کے عناصر سڑکوں اور عوامی مقامات پر حجاب پر مکمل پابندی جیسی تجاویز پیش کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک سیکولرازم کا قانون، جس کا مقصد مذہبی آزادی کا تحفظ تھا، اب مسلمانوں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔

یہ عناصر اسلامی طرزِ زندگی کی مختلف علامتوں کو فرانسیسی جمہوری اقدار کے لیے خطرہ قرار دینے اور اس کے ذریعے معاشرے میں شدید تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارہ الجزیرہ کے مطابق، جامع مسجد پیرس کے سربراہ شمس الدین حفیظ نے روزنامہ لوموند میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ان امتیازی رویوں پر احتجاج کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مسلمان فرانس کے قانونی شہری ہیں، عارضی مہمان نہیں، اور تاریخ کے مختلف ادوار میں انہوں نے فرانس کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔

ان کے مطابق مذہب اختیار کرنا اور حجاب پہننا ایک اچھا شہری ہونے کے منافی نہیں، اور اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرکے مساوات کے تصور کو پامال نہیں کیا جانا چاہیے۔

تاہم یہ دباؤ صرف حجاب تک محدود نہیں۔

روزنامہ لوموند نے ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ انتہاپسند دائیں بازو کے عناصر نے کھانے اور طرزِ خوراک کو بھی ثقافتی کشمکش کا حصہ بنا دیا ہے۔

وہ حلال کھانے، کباب اور اسکولوں و بازاروں میں شرعی ذبیحے کو نشانہ بنا رہے ہیں اور معاشرے کو ’’حقیقی فرانسیسی‘‘ اور ’’اجنبی‘‘ کے خانوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس سوچ کے تحت مسلمانوں کے طرزِ زندگی کو فرانسیسی ثقافت کے لئے خطرہ ظاہر کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مسلمان خاندانوں کے لیے روزمرہ خوراک کا انتخاب بھی امتیاز اور اجنبیت کے احساس سے جڑتا جا رہا ہے۔

اسی دوران روزنامہ لا کروآ میں تیبو دورمان کے قلم سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ دائیں بازو کی انتہاپسند جماعت نیشنل ریلی (اجتماعِ قومی) خود کو ایک باوقار اور معمول کی سیاسی جماعت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اس کے بعض ارکان کے نسل پرستانہ اور اسلام مخالف رویے ایک مختلف حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کے لیے زندگی اب صرف سیاسی سطح پر ہی نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولی معاملات میں بھی سنگین چیلنجز سے دوچار ہوتی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button