جہاں خوف نہ ہو وہاں تقیہ کا کوئی جواز نہیں، ’’تقیہ مداراتی‘‘ کی مطلق طور پر کوئی شرعی دلیل نہیں: آیۃ اللہ العظمی شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست، جمعرات 19 ربیع الثانی 1448 کو منعقد ہوئی۔
معمول کے مطابق اس نشست میں بھی معظم لہ نے حاضرین کی جانب سے پیش کئے گئے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے۔
’’تقیہ مداراتی‘‘ کے مفہوم اور اس اصطلاح کے استعمال کی درستگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: لفظ ’’تقیہ‘‘ کا مادہ ’’وقایہ‘‘ ہے، جس کے معنی خوف اور خطرے کی صورت میں اپنے آپ کو بچانا ہے۔ لہٰذا جہاں خوف اور ڈر کا وجود ہی نہ ہو، وہاں تقیہ کا عنوان لگانا درست نہیں۔
معظم لہ نے اس کی لغوی حقیقت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: تقیہ مصدر ہے اور اس کی حقیقت وقایہ ہے، یعنی خوف کی حالت میں اپنے آپ کو محفوظ رکھنا۔ اسی بنا پر بعض حضرات نے حال ہی میں جو ’’تقیہ مداراتی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے، یہ تعبیر تقیہ کے اصل معنی کے منافی ہے۔
مکہ مکرمہ میں اہل سنت کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرنے جیسی مثالوں سے استدلال کے جواب میں انہوں نے فرمایا: مکہ مکرمہ میں اہل سنت کے ساتھ نماز پڑھنے جیسے موارد کی اپنی خاص دلیل اور روایت موجود ہے، جیسا کہ معصوم علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔ لیکن ’’تقیہ مداراتی‘‘ کو ایک عام اور مطلق شرعی قاعدہ کے طور پر پیش کرنے کی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں۔ جب خوف نہ ہو تو اس کے جواز کی کوئی دلیل نہیں بنتی۔




