سعودی عرب

ریاض میں طاقت کے نقشہ میں تبدیلی؟

محمد بن سلمان نے سعودی نظامِ حکمرانی کو ’’آلِ سعود‘‘ سے ’’آلِ سلمان‘‘ کی اجارہ داری میں کیسے تبدیل کیا؟

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سعودی عرب میں حکمرانی کا نظام آلِ سعود کے مختلف خاندانی دھڑوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم اور شاہی خاندان کے بااثر شہزادوں کے مابین ایک طرح کے داخلی اتفاقِ رائے پر قائم رہا۔

تاہم، شاہ سلمان کے اقتدار میں آنے اور ان کے بیٹے محمد بن سلمان کے بتدریج عروج کے ساتھ ملک کے سیاسی ڈھانچے میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہوئی۔

اس عمل کے نتیجہ میں بڑے سیاسی اور عسکری فیصلوں کا اختیار مکمل طور پر ’’آلِ سلمان‘‘ کے دھڑے تک محدود ہو گیا ہے۔

ہمارے ساتھی نے اس حوالہ سے ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے اسے دیکھتے ہیں:

ریاض میں اقتدار کو یکجا کرنے کا منصوبہ 2015ء سے ممکنہ حریفوں کو کمزور کرنے کے ساتھ شروع ہوا۔

اس حکمتِ عملی کی نمایاں مثال 2017ء کے اواخر میں سامنے آئی، جب درجنوں شہزادوں، وزرا اور معروف کاروباری شخصیات کو بدعنوانی کے خلاف کارروائی کے نام پر ’’رٹز کارلٹن‘‘ ہوٹل میں بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا۔

مبصرین نے اس اقدام کو محمد بن سلمان کی مطلق حکمرانی مستحکم کرنے کے لیے ایک سیاسی تصفیہ قرار دیا۔

اسی طرح ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں احمد بن عبدالعزیز جیسے بااثر افراد کو نظر بند رکھنے، ان کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کیے جانے کا بھی بارہا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات شاہی خاندان کے اندر کسی بھی ممکنہ مخالف مرکز کو ختم کرنے کی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسی دوران ملکی سکیورٹی کے ڈھانچے کو بھی ازسرِنو ترتیب دیا گیا، تاکہ تمام مسلح ادارے ایک مرکزی کمان کے تحت کام کریں۔

فوجی اداروں پر روایتی خاندانوں کے اثر و رسوخ کو ختم یا محدود کرنا، سکیورٹی اداروں کی عملی خودمختاری کو کم کرنا اور توانائی، دفاع اور معیشت کے اہم شعبوں کی ذمہ داریاں ولی عہد کے بھائیوں کو سونپنا، عملی طور پر کسی بھی ممکنہ بغاوت یا ادارہ جاتی نافرمانی کی راہ روکنے کا باعث بنا۔

اس کے علاوہ ملک کے مالی وسائل اور ذرائع پر بھی سخت کنٹرول قائم کیا گیا، تاکہ ولی عہد کی مرضی کے علاوہ اقتدار کا کوئی آزاد مرکز باقی نہ رہے۔

سیاسی مخالفین کا مؤقف ہے کہ شاہی خاندان کے اندر طاقت کے توازن کے مکمل خاتمے سے ملک شخصی حکمرانی کی جانب بڑھ رہا ہے، جو مستقبل میں عدمِ استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، سعودی حکومت کے معروف ناقد ناصر بن عوض القرنی نے ٹیلی ویژن پروگرام ’’جاک العلم‘‘ میں زور دے کر کہا کہ سعودی عرب کا نظامِ حکمرانی ’’آلِ سعود‘‘ کے وسیع خاندانی ڈھانچے سے تبدیل ہو کر ’’آلِ سلمان‘‘ کے ہاتھوں میں اختیارات کے ارتکاز کی طرف چلا گیا ہے۔

انہوں نے 2015ء میں مقرن بن عبدالعزیز کو ولی عہد کے منصب سے ہٹائے جانے، 2017ء میں محمد بن نایف کو ولی عہد کے منصب سے برطرف کیے جانے اور متعب بن عبداللہ کو نیشنل گارڈ کی کمان سے ہٹائے جانے کو شاہ سلمان کے خاندان کے ممکنہ حریفوں کو اقتدار سے دور کرنے اور سیاسی تصفیے کی واضح مثالیں قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق، ناصر بن عوض القرنی نے محمد بن سلمان کے ہاتھوں اختیارات کے ارتکاز اور شاہ سلمان کے دیگر بیٹوں کو ملک کے اہم عہدے سونپے جانے کو سیاسی ڈھانچے میں مکمل اجارہ داری کی علامت قرار دیا۔ ان میں خالد بن سلمان کی وزیرِ دفاع اور عبدالعزیز بن سلمان کی وزیرِ توانائی کے طور پر تقرری بھی شامل ہے۔

ان کے مطابق، اس صورتِ حال نے سعودی عرب میں اجتماعی فیصلہ سازی کے ایک دور کے خاتمے اور اختیارات کے ایک محدود خاندانی حلقہ میں ارتکاز کی راہ ہموار کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button