ہندوستان مساجد کے خلاف کارروائیوں تیزی، سہارنپور کے بعد میرٹھ و مرادآباد بھی زیرِ بحث
ہندوستان مساجد کے خلاف کارروائیوں
تیزی، سہارنپور کے بعد میرٹھ و مرادآباد بھی زیرِ بحث
سہارنپور کی 100 سال سے زائد قدیم کلکٹریٹ مسجد کے انہدام کے بعد اترپردیش کے میرٹھ اور مرادآباد کی مساجد بھی تنازعات کی زد میں آگئی ہیں۔ میرٹھ کی تاریخی شاہی جامع مسجد کے نیچے بودھ مٹھ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کھدائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ مرادآباد کی مسجدِ مصطفیٰ کو نوٹس جاری کرکے ملکیت اور تعمیر سے متعلق دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔
مدھیہ پردیش کے اجین میں شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی توسیع کے لئے منہدم کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ ان کارروائیوں کے باوجود عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون 1991 نافذ ہے، جس کے تحت 15 اگست 1947 کو عبادت گاہوں کی جو مذہبی حیثیت تھی، اسے برقرار رکھنے کی ضمانت دی گئی ہے۔
سہارنپور کی مسجد کے معاملے میں 16 جولائی 2026 کو اسے غیر قانونی قرار دے کر مسجد کی انتظامیہ پر 6 کروڑ 42 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں قانونی تنازع کے باوجود مسجد کو منہدم کردیا گیا۔ ان واقعات پر مذہبی مقامات کے تحفظ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔




