سعودی عرب

توسل شرک، اسرائیل سے مدد کیا ہے؟

توسل شرک، اسرائیل سے مدد کیا ہے؟

اسرائیلی اخبار کا دعویٰ ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے انصاراللہ کے خلاف اسرائیل سے انٹیلی جنس معاونت طلب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک سے براہِ راست جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذریعہ بالواسطہ رابطہ بھی کئے ہیں۔

یہ خبر ان لوگوں کے لئے ایک عجیب سوال ضرور پیدا کرتی ہے جو مدینہ منورہ کی جنت البقیع اور مکہ مکرمہ کی جنت المعلیٰ میں زائرین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اور اہل بیت علیہم السلام سے توسل پر ’’شرک‘‘ اور ’’بدعت‘‘ کے فتوے سناتے ہیں۔

اگر اللہ کے مقرب بندوں سے توسل شرک ہے تو اسرائیل سے مدد طلب کرنا کیا ہے؟

زبان پر ہر وقت ’’شرک، شرک‘‘ اور ’’بدعت، بدعت‘‘ کا شور، مگر سیاسی ضرورت کے وقت اسرائیل سے تعاون؟ پھر مسئلہ توحید کا ہے یا مصلحت کا؟

دین کے احکام اگر واقعی اصول و عقیدے پر قائم ہیں تو ان کا معیار اقتدار، سیاست اور ضرورت کے ساتھ نہیں بدلنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button