فرانس میں حجاب کے تنازع کی 200 سالہ تاریخ کا جائزہ؛ الجزائر میں نوآبادیاتی پالیسیوں سے لے کر آج کے انتخابی ہنگاموں تک

فرانس میں مسلمان خواتین کے حجاب پر تنازع ایک بار پھر اس ملک کی سیاسی رقابت کا گرم ترین موضوع بن گیا ہے۔
عام تاثر کے برخلاف کہ یہ مسئلہ کوئی نیا معاملہ ہے جو موجودہ سیاسی رجحانات یا جدید سیکولرازم کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اس بحران کی تاریخی جڑوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فرانسیسی ریاست کا اسلامی حجاب سے تصادم دو سو سال سے زیادہ پرانا ہے اور اس کی اصل کو شمالی افریقہ میں فرانس کے نوآبادیاتی تجربے میں تلاش کرنا چاہیے۔
جہاں خواتین کے لباس کو غلبہ قائم کرنے، ثقافتی برتری دکھانے اور طاقت کے منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ہمارے ساتھی کی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا گیا ہے:
فرانس میں حالیہ سیاسی ہنگاموں سے پتہ چلتا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی جانب سے عوامی مقامات پر حجاب کو جرم قرار دینے کی تجاویز دراصل ایک پرانے رویے کا نیا قدم ہے۔
فرانسیسی حکومت کے حجاب کے بارے میں نقطہ نظر کی جڑیں جدید سیکولر قوانین میں نہیں بلکہ 1830 میں الجزائر پر قبضے کے آغاز میں پیوستہ ہیں۔
اس دور میں "مسلمان خواتین کو آزاد کرانے” کا نعرہ کوئی اصلاحی یا ہمدردانہ اقدام نہیں تھا، بلکہ ثقافتی بنیادوں کو تباہ کرنے، خاندانی نظام میں دراڑ ڈالنے اور مغلوب معاشروں کی اسلامی شناخت کو کچلنے کے لئے نوآبادیاتی نظام کی ایک نفسیاتی اور سکیورٹی چال تھی۔
خبر رساں ادارہ "الجزیرہ” میں احمد نظیف کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی استعمار نے اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ کوشش کی کہ حجاب کو ایک ذاتی و دینی پردے سے نکال کر سیاسی انضمام اور "مغربی تہذیب کے برابر ہونے” کے مسئلہ سے جوڑ دے۔
اس رپورٹ میں فرانز فینن کے نظریات اور نیل میک ماسٹر جیسے مورخین کی تحقیقات کے حوالے سے تاکید کی گئی ہے کہ الجزائر کی جنگِ آزادی کے دوران نوآبادیاتی حکومت نے "کشفِ حجاب” کی نمائشی تقریبات منعقد کر کے خواتین کے لباس کو مسلمان معاشرے کے خلاف نفسیاتی جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
لیکن وہی حجاب بعد میں تحریکِ آزادی کے دوران قابض افواج کے خلاف انقلابی مزاحمت کی علامت بن گیا۔
"الجزیرہ” کے مطابق الجزائر کی آزادی اور مسلمانوں کی بڑی تعداد میں فرانس ہجرت کے بعد وہی رویہ فرانس کے شہری قوانین کی شکل میں دوبارہ سامنے آیا۔
2004 میں اسکولوں میں مذہبی علامات پر پابندی کا قانون، 2010 میں نقاب پر پابندی اور اس کے بعد بورکینی اور عبایا پر ہنگامے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ نوآبادیاتی تنازع اب آج کے فرانسیسی معاشرے میں منتقل ہو چکا ہے۔
"الجزیرہ” کی رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ بعض موجودہ سیاسی دھاروں کی جانب سے حجاب کو جرم قرار دینے کی کوشش دراصل خواتین کے لباس کے انتخاب کے ذاتی حق اور سماجی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آئندہ انتخابات میں اس مسئلے کا دوبارہ ابھرنا، نوآبادیاتی ورثے کی بحالی اور سیاسی مقاصد کے لئے خواتین کے حجاب کو بطور ہتھیار استعمال کر کے فرانس کے مسلمان معاشرے سے اس کی شناخت چھیننے کی کوشش ہے۔




