مشرق وسطیٰ دھماکے کے دہانے پر؛ عالمی توانائی کے سب سے بڑے بحران کی الٹی گنتی

خلیجِ فارس میں جنگی دھمکیاں اور سفارت کاری کا غیر واضح مستقبل
امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی نقل و حرکت میں اضافہ اور سفارتی لہجے کی سختی نے مشرق وسطیٰ کو انتہائی نازک سکیورٹی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق خلیجِ فارس کی آبی گزرگاہوں میں امریکہ کی مسلسل فوجی صف بندی اور تہران کی دفاعی تیاریوں نے ایک بڑے تصادم کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔
ایسا بحران جس کے رونما ہونے کی صورت میں آزاد بحری آمد و رفت کی سلامتی، عالمی توانائی کی ترسیل اور آبنائے ہرمز سے جڑی معیشتوں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
ہمارے ساتھی کی رپورٹ میں اس معاملے کا جائزہ اس طرح لیا گیا ہے:
خلیجِ فارس میں سکیورٹی کی تازہ ترین صورتحال سے پتہ چلتا ہے کہ اس اسٹریٹجک خطہ میں مغربی افواج اور جنگی ساز و سامان کی بڑے پیمانے پر منتقلی نے علاقائی امن و استحکام کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔
برطانوی اخبار "ٹیلی گراف” کی رپورٹ کے مطابق فوجی قوت کا یہ غیر معمولی ارتکاز اور دھمکی آمیز زبان نے سیاسی حل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور بین الاقوامی گزرگاہوں میں غلط اندازوں یا غیر ارادی جھڑپوں کے خطرے کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔
خبر رساں ادارہ "النشرة” کے مطابق خطہ میں امریکی بحری اور فضائی افواج کی مسلسل موجودگی حالات کو ایک مکمل جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔
رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ دوسری طرف تہران نے بھی کسی بھی مہم جوئی کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر اس پر مزید دباؤ ڈالا گیا اور اس کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو اس کے پاس جوابی کارروائی اور اپنے بازدارندہ ردِعمل کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔
"ٹیلی گراف” کے مطابق اس بحرانی صورتحال سے سب سے زیادہ وہ ممالک متاثر ہوں گے جن کی تجارت اور معاشی زندگی کا دار و مدار آبنائے ہرمز سے گزرنے پر ہے۔
اس اہم ترین بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا بندش عالمی تیل مارکیٹ، بحری انشورنس اور برآمدات کے نظام کو شدید جھٹکا دے گی اور خطے اور دنیا کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گی۔
"مڈل ایسٹ نیوز” کے مطابق موجودہ صورتحال کا تعلق امریکہ کی انتخابی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ فوجی دباؤ اور سفارت کاری کے امتزاج پر مبنی ماڈل پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ راستہ – سفارت کاری یا کشیدگی – کا تعین اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں ہونے والی پیش رفت سے ہوگا۔
اس دوران عالمی برادری دنیا کی حساس ترین معاشی شہ رگ میں عدم استحکام کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف دباؤ میں کمی، خطے سے باہر کی مداخلت پسند طاقتوں کا انخلاء اور تمام ممالک کی قومی خودمختاری کا مکمل احترام ہی اس اسٹریٹجک خطے میں پائیدار امن و سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔




