ہندوستان

جذبات نہیں، بصیرت و حکمتِ عملی کامیابی کی بنیاد ہے: مولانا سید رضا حیدر زیدی

شاہی آصفی مسجد لکھنؤ میں نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزۂ علمیہ حضرت غفران مآبؒ لکھنؤ، کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقویٰ، سیرتِ اہل بیت علیہم السلام، حسنِ اخلاق، امانت داری، تقیہ اور موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت نرمی، حکمت، حسنِ اخلاق اور تقویٰ کی تعلیم دیتی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار اپنے کردار و عمل کے ذریعہ لوگوں کو دین اور ولایتِ اہل بیت علیہم السلام کی طرف راغب کریں۔ انہوں نے امانت داری کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کسی غیر مسلم کا مال محض اس کے غیر مسلم ہونے کی وجہ سے حلال نہیں ہوجاتا۔

سہارنپور میں مسجد کی مبینہ مسماری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مجلس علمائے ہند کے مطالبات پیش کئے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی، سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر لانے اور متعلقہ افسران کے کردار کی آزادانہ تحقیقات پر زور دیا۔

قیامِ توابین اور حضرت مختار ثقفی کے تقابلی جائزے میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ توابین نے واقعۂ کربلا کے بعد ندامت اور توبہ کے جذبے کے ساتھ قیام کیا، جبکہ حضرت مختار ثقفی نے کوفہ میں اقتدار قائم کرنے کے بعد قاتلانِ امام حسین علیہ السلام سے قصاص لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جذبات کے ساتھ صحیح تشخیص، بصیرت، تدبیر اور مؤثر حکمتِ عملی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے مومن کو خوش کرنے کو عبادت قرار دیتے ہوئے بیمار کی عیادت، تحفہ دینے اور حسنِ سلوک کی تاکید کی، تاہم جھوٹ، غیبت یا کسی حرام ذریعہ سے کسی کو خوش کرنے کو درست قرار نہیں دیا۔ مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ حضرت مختار ثقفی نے امام زین العابدین علیہ السلام کو خوش کیا اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے قصاص لیا۔

آخر میں انہوں نے اہل ایمان کے لئے حق و بصیرت، اتحاد، دینی قیادت پر اعتماد، سیرتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام پر عمل، مظلومین کی کامیابی اور خطہ میں امن و انصاف کے قیام کے لیے دعا کی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button