نسلِ زیڈ ملازمت کے لئے کیوں تیار نہیں؟

نئی نسل کی عملی زندگی اور روزگار کی منڈی میں آمد کو ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ حالیہ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان ملازمین اپنی صلاحیتوں کے بارے میں جس قدر پراعتماد ہیں، اعلیٰ انتظامی عہدیدار ان کی عملی تیاری کو اس کے مقابلے میں کہیں کم سمجھتے ہیں۔
اس موضوع کا جائزہ لینے والی ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:
نئے گریجویٹس کی حقیقی مہارتوں اور آجروں کی توقعات کے درمیان یہ خلا تشویش ناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ مؤقر اداروں، بالخصوص چارٹرڈ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (CMI) اور بین الاقوامی بزنس اسکول ہالٹ (Hult) کی حالیہ تحقیقات اس فرق کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔
چارٹرڈ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، نسلِ زیڈ کے 45 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس ملازمت کے لیے ضروری مہارتیں موجود ہیں، جبکہ صرف 6 فیصد اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کا خیال ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے نوجوان واقعی عملی زندگی اور ملازمت کے تقاضوں کے لیے تیار ہیں۔
ادارہ CMI کی چیف ایگزیکٹو این فرانک کے مطابق، نوجوان عموماً بھرپور جذبے اور حوصلے کے ساتھ گریجویشن کرتے ہیں، لیکن انہیں عملی ماحول کی پیچیدگیوں اور حقیقی پیشہ ورانہ چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے مزید تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہالٹ بزنس اسکول کے ایک سروے کے مطابق، صورتِ حال اس حد تک تشویش ناک ہے کہ تقریباً 37 فیصد انسانی وسائل کے ماہرین نوجوان گریجویٹس کو ملازمت دینے کے بجائے مصنوعی ذہانت یا روبوٹس کے استعمال کو ترجیح دینے پر آمادہ ہیں، جبکہ تقریباً 30 فیصد افراد کسی آسامی کو پُر کرنے کے بجائے اسے خالی رکھنا بہتر سمجھتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق نسلِ زیڈ میں جن مہارتوں کی سب سے زیادہ کمی محسوس کی جا رہی ہے، ان میں مشکلات کا مقابلہ کرنے اور ثابت قدم رہنے کی صلاحیت، مؤثر ابلاغ، تنقیدی سوچ، ٹیم ورک اور تخلیقی صلاحیت نمایاں ہیں۔
اسی طرح 97 فیصد مینیجرز بنیادی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے واقفیت کو ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ نوجوانوں کی ایک محدود تعداد ہی اس میدان میں مطلوبہ سطح کی عملی مہارت رکھتی ہے۔
تاہم ماہرین کے نزدیک اس صورتِ حال کی تمام تر ذمہ داری نوجوانوں پر عائد کرنا مناسب نہیں۔ نسلِ زیڈ نے کورونا وبا کے بعد ایک ایسے ماحول میں تعلیم اور تربیت حاصل کی ہے جہاں معاشی مستقبل غیر یقینی، رہائش کے اخراجات بلند اور مستقبل کی مالی منصوبہ بندی مشکل ہو چکی ہے۔
بہت سے نوجوانوں نے اپنے والدین کو طویل اوقاتِ کار اور پیشہ ورانہ دباؤ کے باعث ذہنی و جسمانی تھکن کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔ اسی وجہ سے وہ ملازمت اور ذاتی زندگی کے درمیان واضح حدود قائم کرنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
اس مسئلہ میں تعلیمی نظام اور جامعات کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہت کم طلبہ کو دورانِ تعلیم مؤثر پیشہ ورانہ رہنمائی، عملی تربیت یا حقیقی کاروباری اور ملازمتی چیلنجز سے نمٹنے کا موقع ملتا ہے۔ نتیجتاً بعض تعلیمی ادارے بھی روزگار کی تیزی سے بدلتی ہوئی ضروریات کے ساتھ مطلوبہ رفتار سے ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔
اسلامی تعلیمات میں محنت، ذمہ داری، حلال روزی کے حصول اور کام کو مہارت و احسن انداز سے انجام دینے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اسلام انسان کو سستی اور بے عملی کے بجائے جدوجہد، خود انحصاری اور ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ إِذَا عَمِلَ أَحَدُكُمْ عَمَلًا أَنْ يُتْقِنَهُ” یعنی ’’اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام انجام دے تو اسے مہارت اور مضبوطی کے ساتھ انجام دے۔‘‘
قرآنِ کریم بھی صبر، استقامت اور مسلسل جدوجہد کی تعلیم دیتا ہے۔ انسان کو زمین کی آبادکاری اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے فعال اور ذمہ دار کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔




