نیویارک میں دہشت گردانہ حملہ ناکام بنانے پر امریکی شیعہ فاؤنڈیشن کا خیرمقدم: شیعہ، سنی انتہاپسند گروہوں کے بڑے متاثرین میں شامل ہیں
نیویارک میں دہشت گردانہ حملہ ناکام بنانے پر امریکی شیعہ فاؤنڈیشن کا خیرمقدم: شیعہ، سنی انتہاپسند گروہوں کے بڑے متاثرین میں شامل ہیں
امریکہ میں ایک خاتون کو سنی انتہاپسند دہشت گرد گروہ داعش سے وابستہ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے بعد، شیعہ مسلم فاؤنڈیشن (SMF) نے سکیورٹی اداروں کی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے اور مسلمانوں کے خلاف سنی انتہاپسند عناصر کی جانب سے موجود حقیقی خطرات پر زور دیا ہے۔
سی بی ایس (CBS) کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وفاقی پولیس (FBI) نے ’’جیسیکا بووی‘‘ نامی ایک خاتون کو نیویارک ریاست کی اسمبلی کی عمارت پر بم حملے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد شیعہ مسلم فاؤنڈیشن نے سکیورٹی اداروں کے باہمی تعاون اور کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ داعش جیسے سنی تکفیری انتہاپسند گروہوں کے نظریات کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس ادارہ نے ماضی کے بعض واقعات، جن میں ریاست الینوائے میں سنی انتہاپسند گروہ داعش کے حامیوں کو سزا سنایا جانا بھی شامل ہے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ ہمیشہ سے دہشت گردی کے بڑے متاثرین میں شامل رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن نے مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کے لئے سکیورٹی کے انتظامات مزید مضبوط بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ شیعہ مسلم فاؤنڈیشن (Shia Muslim Foundation) ایک آزاد، غیر منافع بخش اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والا ادارہ ہے، جو 2020ء میں امریکی ریاست میری لینڈ میں قائم کیا گیا تھا۔ اس فاؤنڈیشن کی بنیادی توجہ امریکا میں شیعہ شہریوں کے حقوق کا دفاع، مساجد اور عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے لیے اقدامات، شیعہ مخالف اور اسلام مخالف تعصبات کا مقابلہ کرنا، اور پناہ گزینوں و ضرورت مند افراد کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنا ہے۔
اس فاؤنڈیشن کی سربراہی راحت حسین کر رہے ہیں۔ وہ اس شہری ادارے کے نمائندے کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس، امریکی کانگریس اور مختلف وفاقی اداروں کے سرکاری اجلاسوں میں شرکت کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے امریکا میں شیعہ مسلمانوں سے متعلق قانونی اور سکیورٹی کے مسائل اور ان کے مطالبات پیش کیے ہیں۔




