14 ربیع الاول؛ مرگِ یزید پلید

اللّٰهم العن یزید خامساً ۔۔۔۔۔۔۔۔
14 ربیع الاول عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے لئے محض ایک تاریخی تاریخ نہیں، بلکہ ظلم و بغاوت کے ایک سیاہ کردار کے انجام کی یاد بھی ہے۔ یزید بن معاویہ لعنۃ اللہ علیہما کا نام تاریخ میں اس شخص کے طور پر محفوظ ہے جس کے عہدِ حکومت میں کربلا کا وہ عظیم المیہ پیش آیا، جس نے انسانیت کے ضمیر کو ہمیشہ کے لئے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے اصحابِ باوفا کی شہادت، اہلِ حرم کی اسیری، واقعۂ حرّہ اور پھر مکہ مکرمہ پر لشکرکشی، یزید کے مختصر دورِ حکومت کے دامن پر ایسے سیاہ ابواب ثبت ہوئے جنہیں زمانے کی گرد بھی مٹا نہ سکی۔ اس کا نام ظلم، جبر اور اقتدار کی اس سیاست کی علامت بن گیا جس میں سلطنت کی ہوس نے دین کی حرمتوں کو پامال کرنے سے بھی گریز نہ کیا۔
لیکن یزید یہ سمجھ نہ سکا کہ تلوار جسموں کو خاموش کر سکتی ہے، پیغامِ حق کو نہیں۔ کربلا کے بعد امام حسین علیہ السلام کا نام ہر دور میں بلند ہوتا گیا اور یزید کا نام ظلم و بربریت کی علامت بن کر رہ گیا۔ یزید کی سلطنت ختم ہوگئی، تخت و تاج خاک میں مل گئے، لشکر منتشر ہوگئے؛ مگر امام حسین علیہ السلام کا ذکر آج بھی زندہ ہے اور یزید پر لعنت آج بھی اہلِ حق کے دلوں کی آواز ہے۔

یہی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہے کہ ظالم اپنے عہد میں کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وقت کے گزرنے کے ساتھ اس کی طاقت نہیں، اس کا کردار باقی رہتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام آج بھی دلوں میں زندہ ہیں، کیونکہ امام حسین علیہ السلام حق، حریت اور قربانی کا استعارہ ہیں؛ جبکہ یزید ظلم، استبداد اور دین دشمنی کی علامت بن چکا ہے۔
14 ربیع الاول یہ پیغام دیتا ہے کہ حق کا چراغ وقتی طور پر آندھیوں میں گھِر سکتا ہے، مگر بجھتا نہیں؛ اور ظلم کا قصر بظاہر کتنا ہی بلند ہو، بالآخر مٹی میں مل جاتا ہے۔
عاشقانِ آلِ محمد علیہم السلام کو مرگِ یزید مبارک ہو۔




