بحرین

بحرین میں شیعہ اوقاف پر حکومتی گرفت، شیعہ مذہبی آزادی پر پھر سوالات

بحرین میں شیعہ مذہبی اداروں اور شیعہ جعفری اوقاف کے معاملات میں حکومتی مداخلت کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش سامنے آئی ہے۔ مئی 2026 میں بحرینی حکومت نے سنی اور شیعہ جعفری اوقاف کے سابق الگ انتظامی نظام کو ختم کرکے دونوں کو ایک مشترکہ مجلس شؤون الأوقاف الإسلامية کے تحت کردیا، جس کی سربراہی وزیرِ عدل و اسلامی امور و اوقاف کرتے ہیں۔

شیعہ حلقوں اور بعض انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے جعفری اوقاف، حسینیات اور امام بارگاہوں کی انتظامی خودمختاری محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ متولیوں کی تقرری، مذہبی املاک اور اوقاف کے انتظام میں ریاستی کردار بھی اس تنازع کا اہم حصہ بن گیا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں نے محرم و عاشورا 2026 کے دوران بعض شیعہ علماء اور مذہبی کارکنوں کی گرفتاریوں اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندیوں کے دعوے بھی کئے ہیں۔ دوسری جانب بحرینی حکومت ان اقدامات کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے اوقاف کی اصلاحات کو شفافیت، بہتر انتظام اور قانونی نظم و نسق کا حصہ قرار دیتی ہے۔

مبصرین کے مطابق بحرین میں اصل سوال صرف عزاداری کی اجازت کا نہیں بلکہ جعفری اوقاف، مذہبی مراکز اور فقہی تشخص کی حقیقی خودمختاری کا ہے، جس پر شیعہ برادری اور حکومت کے درمیان اختلاف مسلسل برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button