بحرین میں 50 سے زائد شیعہ علماء کا مقدمہ ملتوی، مذہبی شخصیات کو طلب کرنے کا سلسلہ جاری

بحرین کی ایک عدالت نے 50 سے زائد گرفتار شیعہ علماء، حوزۂ علمیہ کے اساتذہ اور ائمۂ جماعت کے مقدمے کی سماعت 19 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔
یہ فیصلہ مقدمے کی دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور ملزمان کو اپنے وکلاء سے ملاقات کا موقع فراہم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔
گرفتار افراد پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور حکومت مخالف نظریات کو فروغ دینے سمیت مختلف سیاسی اور سکیورٹی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جنہیں ناقدین بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان الزامات کو فوری طور پر ختم کرنے، مقدمات کی کارروائی روکنے اور تمام ضمیر کے قیدیوں کو بلاشرط رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شبکہ اللؤلؤہ کے مطابق، بحرین کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے شیعہ علماء پر دباؤ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین واقعے میں بحرینی حکام نے شیخ جعفر الامجدی، جو خطیبِ حسینی اور حوزۂ علمیہ کے استاد ہیں، کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔
اس اقدام کو بحرین کی حکومت کی جانب سے شیعہ برادری کی مذہبی و سماجی شخصیات پر دباؤ بڑھانے، مذہبی آزادیوں کو محدود کرنے اور ان کے خلاف منظم پابندیاں عائد کرنے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔




