بحرین کی امام گاہوں میں عاشورائی جوش و خروش؛ ماتم، جلوس اور دمام کی صداؤں میں امام حسین علیہ السلام سے عقیدت کا اظہار
بحرین کی امام گاہوں میں عاشورائی جوش و خروش؛ ماتم، جلوس اور دمام کی صداؤں میں امام حسین علیہ السلام سے عقیدت کا اظہار
ماہِ محرم بحرین میں آتے ہی شہروں اور دیہاتوں کی فضا سوگوار ہو جاتی ہے۔ ہر طرف سیاہ پوشی نظر آتی ہے۔
شیعہ اپنے قدیم مذہبی و ثقافتی ورثے کے مطابق مجالس عزا، جلوسِ عزاداری، سینہ زنی، زنجیر زنی اور تعزیہ داری کے ذریعہ حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی بے پناہ عقیدت اور وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ بحرین میں عزاداری صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ شیعہ معاشرے کی دینی، سماجی اور ثقافتی شناخت کی نمایاں علامت سمجھی جاتی ہے۔
ہمارے نمائندے کی یہ خصوصی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:
بحرین کی مذہبی اور ثقافتی زندگی میں ماہِ محرم اور صفر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
اس ملک کی اکثریتی آبادی شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، جو محرم کا چاند نظر آتے ہی مساجد، گلیوں، بازاروں اور امام بارگاہوں کو، جنہیں مقامی زبان میں "مآتم” کہا جاتا ہے، سیاہ پرچموں اور علموں سے آراستہ کر دیتی ہے۔
بحرین میں مآتم صرف مجالسِ عزا کے مراکز نہیں بلکہ مذہبی، سماجی اور عوامی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہیں۔ یہاں سال بھر دینی اجتماعات، عیدین کی تقریبات، مختلف عوامی پروگرام اور خاندانی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے مآتم بحرین کے شیعہ معاشرے میں اتحاد، استقامت اور مذہبی تشخص کے مضبوط ترین مراکز سمجھے جاتے ہیں اور نسل در نسل اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور عزاداری کی روایات کو منتقل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
محرم کے پہلے عشرے، خصوصاً ساتویں سے دسویں محرم تک، بحرین میں عزاداری اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ معروف خطباء اور ذاکرین صبح و شام مختلف مآتم میں مجالس اور مقتل خوانی کرتے ہیں، جبکہ سینہ زنی اور زنجیر زنی کے منظم جلوس شہروں اور دیہاتوں کی سڑکوں پر نکلتے ہیں۔
ان جلوسوں میں سنج اور دمام کی پرسوز آوازیں، سیاہ علموں کی بہار اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے وفادار گھوڑے ذوالجناح کی شبیہ، عزاداری کے روح پرور مناظر پیش کرتی ہے۔
اسی طرح تعزیہ اور شبیہ خوانی کی قدیم روایت بھی بحرین کے مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں آج تک پوری عقیدت کے ساتھ جاری ہے اور اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والے بڑی تعداد میں ان پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔
نوجوان بھی ان ایام میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ جلوسوں کے راستوں میں سبیلیں اور استقبالیہ مراکز قائم کرتے ہیں، جہاں عزاداروں میں پانی، شربت اور دیگر نذریں تقسیم کی جاتی ہیں۔
اسی طرح بڑے پیمانے پر نیاز اور عمومی ضیافتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو ماہِ صفر کے اختتام تک جاری رہتا ہے۔
بحرین میں محرم کی یہ عزاداری محض مذہبی رسومات تک محدود نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک زندہ ثقافتی روایت ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتی آ رہی ہے اور آج بھی اس ملک کے شیعہ مسلمانوں کی دینی وابستگی، سماجی یکجہتی اور تاریخی شناخت کا سب سے نمایاں مظہر سمجھی جاتی ہے۔




