خبریںماتمی انجمنیں اور حسینی شعائرہندوستان

ہندوستان میں 21 اگست کو تاریخی عزاداری؛ دہلی میں کالا تعزیہ اور بڑاگاؤں میں جلوس عماری برآمد

امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور ایام عزا کے اختتام پر 21 اگست 2026 کو ہندوستان کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں مجالسِ عزا، جلوس ہائے عزاداری، نوحہ خوانی اور سینہ زنی کا سلسلہ جاری رہا۔ دہلی کا 150 سال سے زائد قدیمی کالا تعزیہ اور ضلع جونپور کے بڑاگاؤں کا تقریباً 127 سالہ تاریخی جلوسِ عماری بھی حسبِ دستور برآمد ہوا، جن میں بڑی تعداد میں عزادارانِ اہل بیت علیہم السلام نے شرکت کی۔

دہلی کے علاقہ پہاڑی بوجھلا میں واقع امام بارگاہ سید محبت علی رضوی مرحوم میں صبح 8 بجے مجلسِ عزا منعقد ہوئی، مجلس کے بعد تاریخی کالا تعزیہ جلوس برآمد ہوا، جو شاہی جامع مسجد، چاوڑی بازار اور دیگر قدیمی راستوں سے ہوتا ہوا آگے بڑھا۔ چاوڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے قریب نمازِ ظہرین باجماعت ادا کی گئی، جبکہ مغربین کے وقت اجمیری گیٹ کے قریب نمازِ مغربین ادا ہوئی۔

نماز کے بعد جلوس نئی دہلی ریلوے اسٹیشن، کناٹ پیلس اور سنسد بھون مارگ سے گزرتا ہوا سابق صدرِ جمہوریہ فخرالدین علی احمد کی قبر کے قریب پہنچا، جہاں عزاداروں کی پذیرائی کی گئی۔ بعد ازاں جلوس تغلق روڈ سے ہوتا ہوا تقریباً رات 10 بجے درگاہ شاہ مرداں، جور باغ پہنچا، جہاں کالا تعزیہ دفن کئے جانے کے ساتھ جلوس اختتام پذیر ہوا۔

ادھر اترپردیش کے ضلع جونپور کی معروف شیعہ بستی بڑاگاؤں میں تقریباً 127 سال سے جاری تاریخی جلوسِ عماری بھی 21 اگست کو حسبِ روایت برآمد ہوا۔ روایت کے مطابق یہ جلوس 29 رویت کے حساب سے 8 ربیع الاول کو نمازِ صبح کے بعد پنجہ شریف بڑاگاؤں سے برآمد ہوتا ہے۔ امسال جمعہ 21 اگست کو نمازِ صبح کے بعد حسینی مشن بڑاگاؤں کے صدر ذیشان حیدر کی تعارفی تقریر کے بعد جلوس برآمد ہوا، جو اپنے قدیمی راستوں سے ہوتا ہوا مغرب کے قریب شبیہ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ بڑاگاؤں پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔

جلوسِ عماری میں ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والی انجمن ہائے ماتمی نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کی، جبکہ مقررین نے مجالس و تقاریر کے ذریعہ مصائبِ اہل بیت علیہم السلام بیان کئے۔ بڑاگاؤں کا یہ جلوس ہندوستان کی عزاداری کی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور اسے ملک میں دیگر جلوس ہائے عماری کے آغاز کے لئے ایک قدیم نمونہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

شبِ شہادت کے موقع پر بڑاگاؤں میں عزاداری کے دیگر پروگرام بھی منعقد ہوئے۔ روضہ پنجہ شریف کے قریب عزاخانہ میر حسرت علی مرحوم میں میر کاظم حسین مرحوم کی قائم کردہ مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس کے بعد عزاخانہ صاحب العصر والزمان علیہ السلام میں مجلس اور شب بیداری کا اہتمام کیا گیا۔ انجمن ہائے ماتمی نے رات بھر نوحہ خوانی اور سینہ زنی کرکے امام حسن عسکری علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت پر پرسہ پیش کیا۔

21 اگست کو ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بھی عزاداری کی فضا قائم رہی۔ مختلف شہروں، قصبات اور دیہی علاقوں میں امام بارگاہوں، عزاخانوں اور مذہبی مراکز میں مجالسِ عزا منعقد ہوئیں، جبکہ متعدد مقامات پر ماتمی جلوس، نوحہ خوانی، سینہ زنی اور شب بیداری کے پروگرام ہوئے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button