2 ربیع الاول؛ یوم وفات حجۃ الاسلام سید محمد باقر شفتی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

فقر سے فقاہت تک؛ سید شفتی مرحوم کی روشن زندگی
حجۃ الاسلام سید محمد باقر شفتی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی علم، تقویٰ، مجاہدۂ نفس، حق گوئی اور خدمتِ خلق کی ایک روشن داستان ہے۔ 1175ھ کے قریب چرزه میں پیدا ہونے والے اس طالبِ علم نے محدود وسائل کے باوجود علم کی تلاش میں کربلا، نجف اور کاظمین کا سفر کیا اور اپنے عہد کے جلیل القدر علماء سے کسبِ فیض کیا۔ غربت، بھوک اور دشوار حالات بھی ان کے عزم و استقامت کو متزلزل نہ کرسکے۔
ایران واپسی کے بعد اصفہان ان کی علمی و اجتماعی زندگی کا مرکز بنا۔ تدریس، تحقیق، فقاہت، قضا اور اصلاحِ معاشرہ کے میدان میں ان کی شخصیت روز بروز نمایاں ہوتی گئی۔ ان کے حلقۂ درس سے متعدد نامور علماء نے فیض حاصل کیا اور وہ رفتہ رفتہ اصفہان کے ممتاز فقہاء اور بااثر دینی رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔
حجۃ الاسلام سید محمد باقر شفتی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی عظمت صرف علم و فقاہت تک محدود نہ تھی۔ وہ عوام کے دکھ درد سے باخبر، فقراء و محتاجوں کے مددگار اور ظلم کے مقابلے میں حق گو تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جب وسعتِ رزق عطا کی تو اسے ذاتی آسائش کا ذریعہ بنانے کے بجائے خدمتِ خلق کا وسیلہ بنایا۔ قدرتی آفات، وباؤں اور اجتماعی مشکلات کے مواقع پر ضرورت مندوں کی مدد کی۔ ان کی سخاوت اور دل جوئی نے انہیں اہلِ علم کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے دلوں میں بھی محبوب بنا دیا۔
اقتدار کے سامنے بے نیازی اور حق گوئی بھی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ انہوں نے مرجعیت کو اعزاز و افتخار کا منصب نہیں بلکہ دینی و اجتماعی امانت سمجھا اور اپنی ذمہ داریوں کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی۔ اصفہان کی مسجدِ سید ان کے علمی، دینی اور اجتماعی عزم کی ایک عظیم یادگار ہے، جو آج بھی ان کے نام اور خدمات کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
2 ربیع الاول 1260ھ کو یہ عظیم فقیہ دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن ان کا علمی ورثہ، شاگردوں کی تربیت، دینی خدمات اور روشن کردار آج بھی باقی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حقیقی عظمت مال و منصب میں نہیں، بلکہ علم کے ساتھ تقویٰ، اقتدار کے سامنے حق گوئی اور نعمت کے ساتھ خدمتِ خلق میں ہے۔
حجۃ الاسلام سید محمد باقر شفتی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ فقر کی چٹائی سے اٹھے، علم کی بلندیوں تک پہنچے اور مرجعیت کے مقام پر فائز ہوئے؛ لیکن زندگی کے آخری لمحے تک اپنی اصل ذمہ داری نہیں بھولے: دین کی سربلندی اور بندگانِ خدا کی خدمت۔
آخر میں یہ نکتہ قابل غور کہ سید محمد باقر شفتی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ عظیم عالم، فقیہ اور مجتہد تھے، لیکن چونکہ اہل علم میں سب سے پہلے آپ کو "حجۃ الاسلام” کے لقب سے یاد کیا گیا ہے، اس لئے آپ کے نام کے ساتھ یہ لقب لکھا گیا ہے۔




