افغانستان میں ۹ یونیورسٹیز کے تعلیمی سرگرمیوں کے لائسنس کی منسوخی

افغانستان کی وزارتِ اعلیٰ تعلیمِ طالبان نے اعلان کیا ہے کہ تعلیمی سال 1405 کے بہاری نصف میں کی جانے والی تحقیقات کے بعد 7 نجی جامعات کی سرگرمیاں ایک سال کے لئے معطل اور مزید 2 جامعات کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
روزنامہ 8صبح کے مطابق، طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان جامعات میں ’’فرضی طلبہ‘‘ کی موجودگی، حاضری کی فہرستوں میں جعل سازی، تعلیمی سرگرمیوں سے محروم افراد کو امتحانات میں شرکت کی اجازت دینا، طلبہ سے خالی کلاس رومز اور ضروری لیبارٹری آلات کی عدم موجودگی سمیت مختلف خلاف ورزیاں پائی گئی ہیں۔
اس فیصلہ کے تحت برلاس یونیورسٹی جوزجان، راہِ سعادت اور ترکستان بلخ، ازہر اور برنا بدخشان، رشاد فاریاب اور پیام کابل کی تعلیمی سرگرمیاں ایک سال کے لئے معطل کر دی گئی ہیں۔
جبکہ قندوز میں کہندژ اور تخار میں خانۂ دانش نامی تعلیمی مراکز کے لائسنس مکمل طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
خامہ پریس کے مطابق، یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر عائد پابندی کے نتیجے میں اس سے قبل افغانستان کی نجی جامعات کی آمدنی میں 28 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے، جبکہ 31 فیصد نجی جامعات بند ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔




