افغان زائرین کے اربعین ویزوں کی فراہمی کی ضرورت

زائرین کے حقوق کا تحفظ اور غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ ناگزیر
ایام اربعین حسینیؑ میں ویزہ جاری کرنے کے عمل کی مدیریت اور غیر ضروری اخراجات سے بچاؤ کا موضوع افغانستان میں زیارتی کمپنیوں اور زائرین کے لئے سب سے بڑی تشویش بن گیا ہے۔
جبکہ عراق نے زیارتی ویزہ مکمل طور پر مفت قرار دیا ہے، ایسے میں اس کی تقسیم کے عمل پر مزید سخت نگرانی اور دلالوں کی مداخلت کو روکنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
افغانستان کی "عتبات عالیات یونین” کے رکن فدا محمد شیرزاد نے خبر رساں ایجنسی "اخبار شیعہ” سے گفتگو میں کہا کہ عراقی حکومت کے فیصلے کے مطابق افغان زائرین کے لئے 15 ہزار مکمل مفت ویزے مختص کئے گئے تھے؛ لیکن افسوس کہ کچھ دلالوں نے صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے زائرین اور زیارتی کمپنیوں سے مختلف ناموں پر رقم وصول کی ہے۔
انہوں نے موجودہ دستاویزات اور رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ افغانستان میں زیارت کے خواہشمند افراد کی بڑی تعداد کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتی ہے جو مالی مشکلات برداشت کر کے شہر مقدس کربلا کی حاضری کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس لئے اس ویزے کے بدلے پیسے لینا جو عراق کی جانب سے مفت قرار دیا گیا تھا، زائرین پر مزید بوجھ بن گیا ہے۔
عتبات عالیات یونین کے رکن نے عمل کی شفافیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں تاکہ زائرین اور زیارتی کمپنیوں سے لی گئی اضافی رقم واپس کی جائے۔
واضح رہے کہ مذکورہ مالی مشکلات کے علاوہ انتظامی مسائل اور اجازت ناموں کے بروقت اجرا میں عدم ہم آہنگی کے باعث اس سال بھی افغان زائرین کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اربعین کے دن کے بعد ہی شہر مقدس کربلا پہنچ سکے۔




