شیعہ مرجعیت

یوم ولادتِ باسعادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام؛ گیارہویں امام کی علمی سیرت اور طرزِ ہدایت پر ایک نظر

یوم ولادتِ باسعادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام؛ گیارہویں امام کی علمی سیرت اور طرزِ ہدایت پر ایک نظر

4 ربیع الثانی، یومِ ولادتِ باسعادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مناسبت سے دنیا بھر میں شیعہ اور اہلِ بیتِ عصمت و طہارت کے چاہنے والے جشن و مسرت کی محافل سجا کر امام علیہ السلام کی ولادت کا دن منا رہے ہیں۔

ہمارے نمائندے کی اس حوالے سے رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

چار ربیع الثانی، یوم ولادتِ باسعادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی آمد کے ساتھ ہی عالمِ اسلام نور و سرور میں ڈوبا ہوا ہے۔

اسی بابرکت موقع پر اہلِ بیتِ عصمت و طہارت علیہم السلام کے عقیدت مند محافلِ جشن و سرور منعقد کر کے حضرت مہدیِ موعود عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے والدِ گرامی کی ولادتِ فرخندہ کی ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام 4 ربیع الثانی 232 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والدِ بزرگوار حضرت امام علی النقی الہادی علیہ السلام اور والدہ ماجدہ ایک نہایت پرہیزگار اور بلند مرتبہ خاتون جنابِ حدیث سلام اللہ علیہا تھیں، جن کا ذکر تاریخی کتب میں سلیل، سوسن اور جدہ کے ناموں سے بھی آیا ہے۔

آپ کی مشہور کنیت ابو محمد اور مشہور القاب عسکری اور زکی ہیں۔

آپ کی ولادتِ مبارکہ عباسی خلیفہ متوکل کے دورِ حکومت میں ہوئی۔

آپ کے بچپن ہی میں حاکمِ وقت متوکل نے امام علی نقی ہادی علیہ السلام کو جبراً مدینہ سے سامرہ (فوجی چھاؤنی والے شہر) منتقل کر دیا، اسی لئے امام حسن عسکری علیہ السلام نے بھی بچپن سے سامرہ میں سکونت اختیار کی اور فوجی چھاؤنی "عسکر” میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے "عسکری” کے لقب سے مشہور ہوئے۔

آپ بنی عباس کے خلفاء کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے ہمیشہ حکومتی نگرانی اور کڑے پہرے میں رہے اور شدید پابندیوں کا سامنا کرتے رہے۔

اس کے باوجود امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی الہی تدبیر و بصیرت سے نمائندوں اور مکتوبات کے ذریعہ شیعہ معاشرے کی ہدایت کے لئے ایک منظم رابطہ نظام قائم رکھا، یہاں تک کہ عثمان بن سعید، جو حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے پہلے نائبِ خاص ہیں، آپ ہی کے خاص نمائندوں میں سے تھے۔

آخرکار یہ امامِ ہمام 8 ربیع الاول 260 ہجری کو 28 برس کی عمر میں سامرہ میں شہادت پا گئے اور اپنے والدِ بزرگوار کے روضہ مبارک کے پہلو میں سپردِ خاک ہوئے، جو آج عراق میں حرمِ مطہرِ امامینِ عسکریین کے نام سے اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کی زیارت گاہ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button