ہندوستان

پورے ہندوستان میں شہدائے کربلا کا چہلم عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، مختلف شہروں میں مجالسِ عزا اور تاریخی جلوس برآمد

نئی دہلی: حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحابِ کربلا کے چہلم کے موقع پر منگل 20 صفر المظفر کو پورے ہندوستان میں نہایت عقیدت، احترام اور مذہبی جوش و خروش کے ساتھ مجالسِ عزا، جلوس ہائے عزا اور ماتمی اجتماعات منعقد ہوئے۔ ملک کے مختلف شہروں میں لاکھوں عزادارانِ حسینی نے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے نوحہ خوانی، سینہ زنی اور عزاداری کی۔

دارالحکومت نئی دہلی میں چہلم کا صدیوں پرانا تاریخی جلوس صبح تقریباً آٹھ بجے برآمد ہوا، جو تقریباً چودہ گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد درگاہ شاہ مرداں، کربلا جور باغ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ یہ قدیمی جلوس دہلی کی اہم شاہراہوں سے گزرتا ہے اور پارلیمنٹ سمیت متعدد اہم سرکاری عمارتوں کے سامنے سے گزرنا اس کی تاریخی شناخت کا حصہ ہے۔

لکھنو میں وکٹوریہ اسٹریٹ پر واقع امام باڑہ ناظم صاحب مرحوم سے چہلم کا تاریخی جلوس برآمد ہوا، جس میں سیاہ لباس میں ملبوس ہزاروں عزاداران شریک ہوئے۔ جلوس کربلا تالکٹورہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس سے قبل مجلسِ عزا سے مولانا سید کلب احمد نقوی نے خطاب کیا۔ جلوس میں علم، تعزیے، تابوت اور بیبیوں کی عماریاں شامل تھیں، جبکہ عزاداران نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعہ شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ راستے بھر میں سبیلوں، طبی کیمپوں اور زائرین کی خدمت کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔

علی گڑھ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بیت الصلوٰۃ میں مجلسِ عزا کے بعد روایتی جلوس نکالا گیا، جس میں طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ عزاداران نے شہدائے کربلا کی یاد میں ماتم کیا اور امام حسین علیہ السلام کے پیغامِ حق، عدل اور ایثار کو اجاگر کیا۔

مرادآباد میں گڑیا باغ سے برآمد ہونے والا جلوس لاکڑی والان کے قدیمی جلوس میں شامل ہونے کے بعد کربلا پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے شہدائے کربلا کی یاد تازہ کی۔

میرٹھ میں چھوٹی کربلا سے ذوالجناح کا جلوس برآمد ہوا، جو گھنٹہ گھر سے ہوتا ہوا پرانی کربلا منصبیہ پہنچا۔ اس موقع پر ہزاروں عزاداران نے مجالس اور جلوس میں شرکت کرتے ہوئے نوحہ خوانی اور ماتم داری کی۔

مظفر نگر میں پریم پوری امام بارگاہ میں مجلسِ عزا کے بعد جلوس برآمد ہوا، جو بھارت ماتا چوک، لوہیا بازار، ہنومان چوک اور گوشالہ روڈ سے گزرتا ہوا کالی ندی پر واقع کربلا میں اختتام پذیر ہوا۔

ممبئی میں تاریخی مسجد ایرانیان (مغل مسجد) میں مجلسِ عزا کے انعقاد کے بعد چہلم کا جلوس اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا کربلا رحمت آباد پہنچا، جہاں عزاداران نے حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کو پرسہ پیش کیا۔

ملک بھر میں چہلمِ حسینی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں کی جانب سے پانی، شربت، چائے، کھانے اور طبی امداد کی سبیلیں قائم کی گئیں۔ مجالس اور جلوسوں میں علمائے کرام اور ذاکرین نے واقعۂ کربلا کے آفاقی پیغام، حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی، حق و باطل کی جدوجہد، عدل، آزادی اور انسانی اقدار پر روشنی ڈالی۔

چہلمِ حسینی کے موقع پر ہندوستان بھر میں منعقد ہونے والی یہ عزاداری اس بات کا مظہر تھی کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی آج بھی لاکھوں دلوں کو حق، انصاف، صبر، استقامت اور انسانیت کی خدمت کا درس دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button