19 صفر؛ یوم وفات علامہ شیخ محمد علی العمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخِ تشیعِ حجاز ایسی عظیم شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے نہایت نامساعد حالات میں بھی مدینۂ منورہ میں مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی علمی، دینی اور سماجی شناخت کو محفوظ رکھا۔ ان درخشاں ہستیوں میں علامہ شیخ محمد علی العمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ کئی دہائیوں تک مدینۂ منورہ میں شیعیانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے دینی رہبر، مذہبی قائد اور مخلص خادمِ دین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔
علامہ العمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف خاندانِ العمری سے تھا، جو شیعہ تاریخی روایات کے مطابق حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے دوسرے نائبِ خاص حضرت محمد بن عثمان العمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے خاندان سے منسوب ہے۔ یہ خاندان صدیوں سے مدینہ میں علومِ اہلِ بیت علیہم السلام، دینی قیادت اور مذہبی خدمات کا امین رہا ہے اور حجاز میں تشیع کی بقا میں اس کا کردار نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

آپ کی ولادت 1327ھ ق (1909ء) میں مدینۂ منورہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی کی سرپرستی میں حاصل کی۔ بعد ازاں 1349ھ ق میں اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے نجف اشرف تشریف لے گئے، جہاں آیۃ اللہ العظمی سید ابو الحسن اصفہانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور دیگر اکابر فقہاء و اساتذہ سے فقہ، اصول اور معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تحصیل کی۔
والد کے انتقال کے بعد بھی آپ نے کچھ عرصہ نجف اشرف میں علمی مصروفیات جاری رکھیں، لیکن بعد ازاں آیۃ اللہ العظمی سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی ہدایت پر مدینہ منورہ واپس تشریف لائے، تاکہ وہاں کے شیعہ معاشرے کی دینی رہنمائی اور قیادت کی ذمہ داری سنبھال سکیں۔
یہ وہ دور تھا جب شیعیانِ مدینہ شدید مذہبی پابندیوں اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہے تھے۔ ایسے کٹھن حالات میں علامہ شیخ العمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے صبر، حکمت اور دوراندیشی کے ساتھ نہ صرف شیعہ تشخص کا تحفظ کیا بلکہ دینی تعلیم، فقہ و حدیث کی تدریس، تبلیغِ معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام، مجالسِ عزائے سیدالشہداء علیہ السلام، شرعی امور کی انجام دہی اور سماجی اصلاح کے ذریعہ مدینہ میں تشیع کی علمی و دینی روایت کو زندہ رکھا۔
آپ کی خدمات مسجد، حسینیہ اور درسگاہ تک محدود نہیں تھیں۔ آپ نے مستحق خاندانوں کی کفالت، نوجوانوں کی دینی تربیت، زائرینِ حرمِ نبویؐ کی رہنمائی، باہمی اختلافات کے حل اور عوامی فلاح کے متعدد منصوبوں کی سرپرستی کی۔ آپ کے قائم کردہ فلاحی نظام سے سینکڑوں ضرورت مند خاندان برسوں مستفید ہوتے رہے۔
مدینہ میں مسجدِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور حسینیہ کی سرپرستی، توسیع اور دینی فعالیت میں بھی آپ کا نمایاں کردار رہا۔ بعد ازاں یہی حسینیہ عراق، ایران، پاکستان، ہندوستان اور دیگر ممالک سے آنے والے شیعہ زائرین کے لئے ایک اہم علمی، روحانی اور سماجی مرکز بن گئی۔
خاندانی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی برکت عطا فرمائی۔ آپ کی چار ازواج اور 29 اولادیں تھیں، جن میں 15 بیٹے اور 14 بیٹیاں شامل تھیں۔
علامہ العمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی سب سے بڑی میراث صرف ان کی علمی خدمات نہیں، بلکہ وہ اعتماد، وقار، استقامت اور اعتدال ہے جو انہوں نے مدینہ کے شیعہ معاشرے کو عطا کیا۔ جب مذہبی سرگرمیوں پر مختلف پابندیاں عائد تھیں، آپ نے بصیرت اور حکمت کے ساتھ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی شمع کو فروزاں رکھا اور اپنی پوری زندگی دین، علم اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دی۔
آج آپ کی برسی کے موقع پر عالمِ تشیع اس عظیم عالمِ ربانی، مدبر رہنما اور خادمِ اہلِ بیت علیہم السلام کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ایسے باعمل، بااخلاص اور صاحبِ بصیرت علماء کی قیادت ہمیشہ نصیب فرمائے۔




