15 صفر؛ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ بستر علالت پر

اسلامی تاریخ میں 15 صفر 11 ہجری ایک نہایت دردناک دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ دن ہے جب خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ مسلسل 23 برس تک انسانیت کو ہدایت، عدل، رحمت اور توحید کا پیغام پہنچانے کے بعد علالت کے باعث بسترِ بیماری پر تشریف فرما ہوئے۔ یہ بیماری آخری ثابت ہوئی اور آپؐ تیرہ دن بعد، 28 صفر 11 ہجری کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے ایسے معاشرے میں دعوتِ اسلام کا آغاز فرمایا جہاں جہالت، ظلم، تعصب اور بت پرستی کا راج تھا۔ آپؐ نے اپنی بے مثال تعلیمات، اعلیٰ اخلاق اور عملی کردار کے ذریعہ ان ہی منتشر اور بے تہذیب قبائل کو علم، تہذیب، اخوت اور انسانیت کا سبق دیا اور ایک عظیم امت کی بنیاد رکھی۔
اس عظیم الٰہی مشن کی راہ میں آپ نے بے شمار مصائب برداشت کئے۔ طائف میں سنگ باری کا سامنا کیا، مکہ مکرمہ میں سماجی اور معاشی بائیکاٹ جھیلا، قریش کی مسلسل اذیتیں برداشت کیں، حتیٰ کہ مکہ، جو آپ اور آپ کے آباء و اجداد کا وطن تھا، وہی آپؐ کے لئے تنگ کر دیا گیا۔ پھر آپ کے عظیم سرپرست حضرت ابو طالب علیہ السلام اور وفادار زوجہ، ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی وفات نے غم کے پہاڑ توڑ دیے۔ ان ہی حالات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔
مدینہ منورہ کی دس سالہ حیاتِ مبارکہ بھی مسلسل آزمائشوں سے عبارت رہی۔ مختلف غزوات، دشمنانِ اسلام کی جارحیت، یہودی قبائل کی سازشیں، منافقین کی ریشہ دوانیاں اور بعض نام نہاد ساتھیوں کی بے وفائیاں ہر مرحلے پر سامنے آئیں، لیکن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے صبر، حکمت اور استقامت کے ساتھ دینِ اسلام کا پیغام عام کیا اور اپنے الٰہی مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
حجۃ الوداع سے واپسی پر میدانِ غدیر میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت و جانشینی کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان امت کی آئندہ الٰہی قیادت اور سلسلۂ امامت کی تکمیل کا تاریخی مرحلہ تھا۔
اس کے باوجود منافقین اور دشمنانِ اسلام کی سازشیں ختم نہ ہوئیں۔ روایات کے مطابق آپ کی زندگی کے آخری ایام میں بھی آپ اور آپ کے اہلِ بیت علیہم السلام کے خلاف مختلف منصوبے بنائے گئے، حتیٰ کہ آپ کی جان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بھی کی گئیں، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کی حفاظت فرمائی۔
بالآخر 15 صفر 11 ہجری کو، تقریباً 63 برس کی عمر میں، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ شدید علالت کے باعث بسترِ بیماری پر تشریف فرما ہوئے۔ اس بیماری کے بعد آپ دوبارہ صحت یاب نہ ہو سکے اور 28 صفر کو شہید ہو کر اپنے ربِ کریم سے جا ملے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی حیاتِ طیبہ صبر، ایثار، رحمت، عدل اور استقامت کا ایسا درخشاں نمونہ ہے جو قیامت تک انسانیت کے لئے مشعلِ راہ رہے گا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی، انسانیت کی ہدایت اور اخلاقِ حسنہ کے فروغ کے لئے وقف کر دی اور اپنی آخری سانس تک اسی عظیم الٰہی مشن کو نبھاتے رہے۔




