7 صفر؛ شہادتِ کریمِ اہلِ بیت— صلح سے کربلا تک ظلم کے خلاف ایک خاموش انقلاب

اسلامی تاریخ میں بعض ایام محض تقویم کے صفحات نہیں ہوتے بلکہ امت کے اجتماعی ضمیر پر ثبت ایسے زخم ہوتے ہیں جو صدیوں گزرنے کے باوجود تازہ رہتے ہیں۔ 7 صفر بھی ایسا ہی ایک غم انگیز دن ہے، جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبطِ اکبر، فرزندِ زہراؑ، کریمِ اہلِ بیت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کی یاد اہلِ ایمان کے دلوں کو سوگوار کر دیتی ہے۔
یہ شہادت صرف ایک عظیم شخصیت کی رحلت نہیں تھی، بلکہ اسلامی خلافت کو موروثی بادشاہت میں تبدیل کرنے کی سازش کا وہ فیصلہ کن مرحلہ تھا جس نے بعد ازاں سانحۂ کربلا کی راہ ہموار کی۔ اگر صلحِ امام حسن علیہ السلام نہ ہوتی تو شاید اسلام کی اصل روح ہی شدید انتشار کی نذر ہو جاتی، اور اگر آپؑ کی شہادت نہ ہوتی تو یزید کی ولی عہدی کے پیچھے چھپی سیاسی منصوبہ بندی پوری طرح بے نقاب نہ ہوتی۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں امت کو یہ سبق دیا کہ ہر معرکہ تلوار سے نہیں جیتا جاتا۔ بعض اوقات خاموشی بھی ایک گونج دار احتجاج ہوتی ہے، صبر بھی ایک عظیم جہاد ہوتا ہے اور وقتی پسپائی درحقیقت دائمی فتح کی بنیاد بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کی صلح کو اہلِ بصیرت ہمیشہ ایک الٰہی حکمت اور دور اندیش سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں۔
معاہدۂ صلح کے بعد مدینہ منورہ میں آپؑ کی زندگی گوشہ نشینی کی نہیں بلکہ اصلاحِ امت کی زندگی تھی۔ مسجدِ نبویؐ آپؑ کی علمی مجالس سے آباد رہی۔ آپؑ نے قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کو محفوظ رکھا، اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت کو زندہ رکھا، نوجوان نسل کی تربیت کی، معاشرے میں اخلاق، حلم، سخاوت اور رواداری کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر تاریخ میں کم ملتی ہے۔
لیکن دوسری طرف شام کے ایوانوں میں ایک اور منصوبہ تیار ہو رہا تھا۔ اقتدار کو موروثی سلطنت میں بدلنے کی خواہش نے حق و انصاف، اخلاق اور دین سب کو پسِ پشت ڈال دیا۔ امام حسن علیہ السلام کی موجودگی اس منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی، کیونکہ امت جانتی تھی کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی جانشین اہلِ بیت علیہم السلام ہیں۔
جب پروپیگنڈا، سیاسی دباؤ اور معاشی حربے ناکام ہوئے تو ظلم نے زہر کا راستہ اختیار کیا۔ دنیا کی چند سکّوں اور جھوٹے وعدوں کے عوض ایک ایسا جرم کرایا گیا جس کی مثال اسلامی تاریخ میں ہمیشہ نفرت کے ساتھ یاد کی جائے گی۔ مگر ظلم کی یہ بھی ایک روایت ہے کہ وہ اپنے آلۂ کاروں سے بھی وفا نہیں کرتا۔ جن وعدوں پر ایک انسان نے اپنا دین اور آخرت بیچ دی، وہ وعدے بھی پورے نہ ہوئے۔
امام حسن علیہ السلام کی شہادت صرف ایک فرد کی شہادت نہیں تھی، بلکہ اخلاق، حلم، صبر اور کرامت کے ایک درخشاں باب کو زہر دے کر خاموش کرنے کی ناکام کوشش تھی۔ زہر نے جسم کو تو کمزور کیا مگر امام حسن علیہ السلام کے پیغام کو نہیں۔ آپؑ کا صبر، آپؑ کی وصیت، آپؑ کی استقامت اور آپؑ کی مظلومیت آج بھی اہلِ حق کے لئے چراغِ راہ ہے۔
تاریخ کا ایک نہایت المناک منظر وہ بھی ہے جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کے جنازے کو بھی سکون نصیب نہ ہوا۔ آپؑ کی وصیت کے مطابق روضۂ رسولؐ کے قریب تجدیدِ عہد کے لئے جنازہ لے جایا گیا، مگر مخالفت، رکاوٹ اور اشتعال انگیزی کی گئی۔ اس کے بعد جنازۂ مبارک پر تیروں کی بارش کی گئی، حتیٰ کہ کفن بھی تیروں سے چھلنی ہو گیا۔
ان تیروں نے صرف امام حسن علیہ السلام کے جنازے کو زخمی نہیں کیا بلکہ امت کے ضمیر، اسلامی اخلاق اور احترامِ اہلِ بیت کو بھی زخمی کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ زیاراتِ اہلِ بیت میں "شہید فوق الجنازة قد شکت بالسهام اکفانه” کے الفاظ آج بھی اس سانحے کی یاد دلاتے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام نے بھائی کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس موقع پر بھی خونریزی سے اجتناب کیا۔ اگرچہ بنی ہاشم کے جوان دفاع کے لئے آمادہ تھے، مگر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بھائی نے خون بہانے سے منع فرمایا ہے۔ یہ اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت تھی کہ وہ اپنی مظلومیت پر صبر کر لیتے تھے مگر امت کو داخلی جنگ میں مبتلا نہیں ہونے دیتے تھے۔
امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد مدینہ منورہ غم میں ڈوب گیا۔ بازار بند ہو گئے، گھروں میں ماتم برپا ہوا، بنی ہاشم کی خواتین نے مسلسل عزاداری کی، اور اہلِ حجاز نے محسوس کیا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اور چراغ گل ہو گیا ہے۔ اس کے برعکس شام میں اقتدار کے ایوان اس خبر پر مسرور تھے۔ یہی تضاد تاریخ کے دو راستوں کی نشاندہی کرتا ہے؛ ایک راستہ اہلِ بیت علیہم السلام کا، دوسرا اقتدار پرستی کا۔
آج 7 صفر صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سچ بولنے والے کو زہر دیا جاتا ہے، مظلوم کے جنازے پر تیر برسائے جاتے ہیں، اور عدل کے علمبردار کو تاریخ کے صفحات سے مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ظلم کا ہر منصوبہ وقتی ہوتا ہے، جبکہ حق کی روشنی ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی سیرت آج بھی ہمارے لئے یہ پیغام رکھتی ہے کہ اختلاف کے زمانے میں حلم، انتشار کے ماحول میں وحدت، طاقت کے غرور کے مقابلے میں اخلاق، اور دنیا کی چمک دمک کے مقابلے میں دین کی حفاظت کو ترجیح دی جائے۔ یہی حسنی مکتب ہے، یہی اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیم ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔
7 صفر کا دن ہمیں صرف اشک بہانے کی دعوت نہیں دیتا بلکہ یہ عہد لینے کا دن بھی ہے کہ ہم امام حسن علیہ السلام کی سیرت کو اپنی انفرادی، اجتماعی اور سماجی زندگی میں زندہ کریں گے؛ صبر کو کمزوری نہیں بلکہ قوت سمجھیں گے، حلم کو شکست نہیں بلکہ فتح جانیں گے، اور دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سربلندی کے لئے ہر قربانی کو سعادت سمجھیں گے۔
سلام ہو کریمِ اہلِ بیتؑ پر، جنہوں نے صلح کو عزت بخشی، صبر کو عظمت دی، مظلومیت کو تاریخ کی سب سے بڑی دلیل بنایا اور اپنی شہادت سے ظلم کے چہرے سے ہر نقاب نوچ ڈالا۔
اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِی وَ رَحْمَهُ اللّهِ وَ بَرَکاتُهُ




