28 محرم الحرام؛ شہادتِ حضرت خولہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا

بعلبک کی سرزمین پر مظلوم شہزادیٔ کربلا کی یاد
واقعۂ عاشورا کے بعد جب اہلِ بیتِ رسولؐ اور دیگر اسیرانِ کربلا کو کوفہ سے شام کی جانب لے جایا گیا تو یہ قافلہ مختلف منازل سے گزرتا ہوا لبنان کے تاریخی شہر بعلبک پہنچا۔ روایتوں کے مطابق اہلِ بیت علیہم السلام کے اسیر قافلے نے اس سفر کے دوران بے شمار مصائب و آلام برداشت کئے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ جب اہلِ بعلبک نے یزیدی لشکر کے استقبال کے لیے کھانے اور مٹھائیوں کا اہتمام کیا تو حضرت امِ کلثوم سلام اللہ علیہا نے اس منظر پر شدید رنج و الم کا اظہار فرمایا اور ان لوگوں کے طرزِ عمل پر ناراضی کا اظہار کیا۔
روایات کے مطابق جب اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کا قافلہ بعلبک کے دروازے پر پہنچا تو امام حسین علیہ السلام کی کمسن بیٹی حضرت خولہ سلام اللہ علیہا، جو سفرِ اسیری کی سختیوں، بھوک، پیاس اور مسلسل صدمات سے نڈھال تھیں، اونٹ سے زمین پر آ گئیں۔ یہ معصوم شہزادی اس عظیم مصیبت کو برداشت نہ کر سکیں اور اسی مقام پر شہادت پا گئیں۔
روایت میں ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنی ہمشیرۂ گرامی کو اسی مقام پر سپردِ خاک فرمایا اور بطورِ نشانی ایک صنوبر کا درخت لگایا، جو آج بھی موجود ہے۔ عقیدت مند اس کی پتیاں تبرک اور برکت کی نیت سے حاصل کرتے ہیں۔
حضرت خولہ سلام اللہ علیہا کی مظلومانہ شہادت مصائبِ کربلا کے ان دردناک ابواب میں سے ہے جو ہر صاحبِ دل کو غمگین کر دیتے ہیں۔ ایک کمسن بچی کی اسیری، سفر کی سختیاں اور اہلِ بیت علیہم السلام پر گزرنے والی آزمائشیں آج بھی محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے دلوں میں غم و عقیدت کے جذبات کو تازہ کرتی ہیں۔

تاریخی روایات کے مطابق عثمانی دورِ حکومت میں حضرت خولہ سلام اللہ علیہا کے مزارِ مبارک پر روضہ تعمیر کیا گیا، بعد ازاں مختلف ادوار میں اس کی توسیع اور تعمیرِ نو کا سلسلہ جاری رہا۔ آج بعلبک میں واقع یہ مقدس مقام عاشقانِ حسینیؑ کے لئے اہم زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ہر سال بڑی تعداد میں زائرین حاضری دیتے ہیں۔
حضرت خولہ بنت الحسین سلام اللہ علیہما کا روضۂ مبارک اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت، وفاداریِ حسینی اور مصائبِ کربلا کی یاد کا ایک روح پرور مرکز ہے، جہاں زائرین عقیدت و احترام کے ساتھ حاضری دے کر اس مظلوم شہزادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔




