25 محرم؛ امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت

حضرت امام زین العابدین، امام سجاد علیہ السلام، واقعۂ کربلا کے بعد امامت کے اُس نورانی سلسلے کے امین بنے جس نے ظلمت کے ہر دور میں حق کی شمع روشن رکھی۔ آپؑ نے اسیری کی زنجیروں، صبر و استقامت، دعا و مناجات، عبادت اور بے مثال اخلاق کے ذریعے نہ صرف پیغامِ عاشورا کو محفوظ رکھا بلکہ امتِ مسلمہ کو بندگیِ خدا، عزتِ نفس اور حق پر استقامت کا ابدی درس بھی عطا فرمایا۔
مشہور شیعہ روایت کے مطابق آپؑ 25 محرم الحرام 95 ہجری کو اموی حکومت کے حکم پر زہر دے کر شہید کیے گئے، اگرچہ تاریخِ شہادت کے سال اور دن کے بارے میں مختلف اقوال بھی منقول ہیں۔ آپؑ نے واقعۂ عاشورا کے بعد تقریباً پینتیس برس تک امت کی روحانی، علمی اور اخلاقی رہنمائی فرمائی اور اپنی دعاؤں، تعلیمات اور کردار کے ذریعے اہلِ بیت علیہم السلام کے پیغام کو زندہ رکھا۔
امام سجاد علیہ السلام کی شہادت اس بات کی گواہ ہے کہ ظلم و جبر کبھی بھی حق کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتے۔ آپؑ نے خاموش انقلاب، عبادت، اخلاقِ کریمانہ اور خدمتِ خلق کے ذریعے بنی امیہ کی ظالمانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا اور کربلا کی حقیقت کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔
آپؑ کو مدینہ منورہ کے مقدس قبرستان جنت البقیع میں حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ صحیفۂ سجادیہ، رسالۂ حقوق اور آپؑ کی سیرتِ طیبہ آج بھی ایمان، تقویٰ، صبر، عدل، دعا اور بندگیِ الٰہی کا زندہ و جاوید سرمایہ ہیں۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت ہر دور کے اہلِ ایمان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ حق، صبر اور بندگی کا راستہ ہی حقیقی کامیابی اور قربِ الٰہی کا راستہ ہے۔




