افغان زائرین کے امور میں آسانی کی ضرورت

ماہِ محرم کے آخری ایام اور ماہِ صفر کی آمد کے ساتھ ہی دنیا بھر میں اہلِ بیت علیہم السلام کے عشاق عظیم شعیرۂ پیادہ رویِ اربعین کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
تاہم افغانستان کے مظلوم اور محروم زائرین سخت انتظامی پابندیوں، معاشی مشکلات اور سفری اخراجات میں غیر معمولی اضافے کے باعث اب بھی عتباتِ عالیات کی زیارت کے لیے سنگین رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایران اور عراق کی حکومتوں سے فوری، سنجیدہ اور باہمی تعاون کے ذریعے ان مسائل کے حل کا تقاضا کرتی ہے۔
ہر سال اربعین حسینی کے موقع پر دنیا بھر سے لاکھوں عشاقِ امام حسین علیہ السلام کربلائے معلّیٰ کا رخ کرتے ہیں، لیکن افغانستان کے شیعہ زائرین، جو اس روحانی سفر کے سب سے زیادہ مشتاق اور محروم قافلوں میں شمار ہوتے ہیں، ہمیشہ سخت انتظامی رکاوٹوں اور پیچیدہ ویزا ضوابط کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
افغانستان میں اربعین کے متعدد قافلہ سالاروں سے گفتگو کے بعد شیعہ خبر رساں ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ سال حالات اس قدر دشوار تھے کہ افغانستان سے روانہ ہونے والا کوئی بھی زائر ماہِ صفر کے آخری ایام تک عراق میں داخل نہ ہو سکا۔
اس دردناک محرومی کے باعث رواں سال افغانستان میں اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں میں پیادہ رویِ اربعین میں شرکت کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال درخواست گزاروں کی تعداد غیر معمولی اور ریکارڈ سطح تک پہنچ جائے گی۔
دوسری جانب افغانستان کی ابتر معاشی صورتِ حال اور بالخصوص شیعہ برادری پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ نے اس مقدس سفر کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان زائرین کو عراق پہنچنے کے لیے ایران کے طویل زمینی راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔
افغانستان کے اندر بڑھتے ہوئے سفری اخراجات، ذرائع نقل و حمل کی قلت اور ایران میں کرایوں میں کئی گنا اضافہ نے ان مشکلات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ان بھاری اخراجات کے باعث بہت سے زائرین کو اپنا سفر مؤخر کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ گزشتہ برسوں کی طرح اربعین کے بعد عراق پہنچتے ہیں۔
اربعین کے بعد بیشتر موکب ختم ہو جاتے ہیں، جس کے باعث ان زائرین کو رہائش، خوراک اور دیگر ضروریات کے تمام اخراجات خود برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ اکثر افغان شیعہ زائرین کی مالی استطاعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
اب جبکہ اربعین حسینی میں بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے، افغانستان کے شیعہ عوام ایران اور عراق کی حکومتوں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغان زائرین کے خصوصی حالات اور معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی تعاون کے ذریعہ اربعین کے زیارتی ویزے بروقت، آسان اور بلا معاوضہ جاری کریں، تاکہ اس غیر ارادی محرومی کا خاتمہ ہو اور افغانستان کے دلسوز عشاقِ امام حسین علیہ السلام بھی بروقت زیارتِ اربعین کی سعادت حاصل کر سکیں۔




