نمازِ واجب اور نمازِ مستحب کے احکام میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست جمعرات، 23 محرم الحرام 1448 ھ کو منعقد ہوئی۔
حسبِ معمول اس نشست میں آپ نے حاضرین کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف فقہی سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔
نمازِ واجب اور نمازِ مستحب کے احکام میں فرق بیان کرتے ہوئے آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان متعدد فقہی امتیازات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً نمازِ واجب میں پہلی اور دوسری رکعت کے بارے میں شک پیدا ہو جائے تو نماز باطل ہو جاتی ہے، جبکہ نمازِ مستحب میں ایسا شک نماز کو باطل نہیں کرتا۔ ایسی صورت میں نمازی کو اختیار ہوتا ہے کہ نماز جاری رکھے یا ایک یا دو رکعت پر بنا قائم کرے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: نمازِ واجب میں سورۂ حمد کے بعد ایک مکمل سورت پڑھنا ضروری ہے، جبکہ نمازِ مستحب میں سورۂ حمد کے بعد کسی سورت کا پڑھنا واجب نہیں۔ نمازی چاہے تو کوئی سورت نہ پڑھے، یا ایک سے زیادہ سورتیں بھی تلاوت کر سکتا ہے۔
نماز میں سورہ کے تکرار کے حکم کے بارے میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: نمازِ واجب کی ایک رکعت میں کسی سورہ کی تکرار کرنا، جسے فقہی اصطلاح میں قِران کہا جاتا ہے، محلِ اشکال ہے، جبکہ نمازِ مستحب میں اس کی اجازت ہے۔ البتہ اگر ایک ہی سورہ کی متعدد آیات، مثلاً سورۂ بقرہ کی سو یا دو سو آیات، ایک رکعت میں پڑھی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
آخر میں آپ نے فرمایا: نماز کے دوران قرآنِ کریم کی تلاوت، دعا اور ذکرِ الٰہی بجا لانا نماز کو باطل نہیں کرتا۔ اگرچہ بعض روایات میں اس سے منع کیا گیا ہے، لیکن اس ممانعت سے مراد حرمت نہیں بلکہ کراہت ہے۔




