سوشل میڈیا پر عوام کی زندگی سے کھیل؛ ترکیہ میں جعلی طبی علاج کی تشہیر سے ایرانی سلبریٹیز کی کمائی
سوشل میڈیا پر عوام کی زندگی سے کھیل؛ ترکیہ میں جعلی طبی علاج کی تشہیر سے ایرانی سلبریٹیز کی کمائی
ترکیہ میں مقیم ایرانی سلبریٹیز اور اداکاروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر طبی خدمات کی گمراہ کن تشہیر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس پر صحت عامہ اور پناہ گزینوں و مسافروں کے مالی تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ معروف شخصیات بھاری معاوضے کے عوض استنبول کے نجی کلینکس اور ایسے طبی علاج کی تشہیر کرتی ہیں جن کی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔ ماہر ڈاکٹرز اور قانونی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ایسے علاج مریضوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ غیر ملکی مریضوں کو قانونی چارہ جوئی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس موضوع پر ہمارے ساتھی کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:
گزشتہ چند برسوں کے دوران ترکیہ خطے میں طبی سیاحت (میڈیکل ٹورازم) کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔
تاہم، معروف اسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی کلینکس اور دلالوں کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی سرگرم ہو چکا ہے، جو سوشل میڈیا پر انفلوئنسرز اور معروف اداکاروں کے ذریعے مریضوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔
فانا کی رپورٹ کے مطابق بعض ایرانی سلبریٹیز سوشل میڈیا پر ویڈیوز کے ذریعے “NAD” نامی انجیکشن علاج کی اس دعوے کے ساتھ تشہیر کر رہے ہیں کہ یہ “جسم کے بنیادی خلیات (اسٹیم سیلز) کو جڑ سے دوبارہ بحال اور زندہ کر دیتا ہے” اور ہر شخص کے لیے نہایت ضروری علاج ہے۔
تاہم، ایران وائر کی تحقیق کے مطابق ماہر ڈاکٹروں اور متعلقہ کلینکس نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق NAD درحقیقت خلیاتی میٹابولزم سے متعلق ایک توانائی بخش سپلیمنٹ ہے اور اس کا اسٹیم سیلز کی مرمت یا بحالی سے کوئی تعلق نہیں۔
ڈاکٹروں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ “آبِ حیات”، “ہمیشہ جوان رہنے” یا “بڑھاپا روکنے” جیسے دعوے محض تجارتی تشہیر کا حصہ ہیں اور ان کی کوئی مستند سائنسی حیثیت نہیں۔
ماہرین کے مطابق ان دھوکا دہی پر مبنی تشہیری مہمات سے سب سے زیادہ غیر ملکی مریض، بالخصوص ایرانی، عرب ممالک کے شہری اور یورپی باشندے متاثر ہوتے ہیں۔
یہ افراد عموماً سفر سے قبل صرف انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے طبی مراکز سے رابطہ کرتے ہیں، لیکن اگر علاج کے بعد طبی پیچیدگیاں یا مالی نقصان پیش آئے تو زبان کی رکاوٹ، بھاری اخراجات اور میزبان ملک کے عدالتی نظام سے ناواقفیت کے باعث مؤثر قانونی کارروائی نہیں کر پاتے۔
ترکیہ میں صارفین کے حقوق کے ماہر قانون دان موسیٰ برزین کا کہنا ہے کہ طبی اشتہارات میں غیر ثابت شدہ سائنسی دعووں کا استعمال قانوناً جرم ہے، اور ترکیہ کی وزارت تجارت اور سپریم ایڈورٹائزنگ کونسل ایسے مراکز پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ان کی سرگرمیاں بھی معطل کر سکتی ہے۔
ماہرین نے ترکیہ کے نجی طبی شعبے میں سامنے آنے والے بڑے مالی اور انتظامی اسکینڈلز، خصوصاً 2024 میں نومولود بچوں سے متعلق مجرمانہ گروہ کے اسکینڈل، کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بعض نجی طبی مراکز میں مالی مفادات مریضوں کی جان اور صحت کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
ماہرین نے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی طبی مرکز یا علاج کے انتخاب میں محض سلبریٹیز کی شہرت یا سوشل میڈیا پر جاری تشہیری مہمات پر ہرگز اعتماد نہ کریں، بلکہ مستند طبی معلومات اور ماہر ڈاکٹروں کے مشورے کو ترجیح دیں.




