ترکی کے عرب و علوی اکثریتی شہر انطاکیہ (ہاتائے) میں جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے بعد پہلی بار حسینی عزاداروں کا عظیم اجتماع منعقد
ترکی کے عرب و علوی اکثریتی شہر انطاکیہ (ہاتائے) میں جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے بعد پہلی بار حسینی عزاداروں کا عظیم اجتماع منعقد
ترکی کے صوبہ ہاتائے، جس کا تاریخی مرکز انطاکیہ ہے، اپنی عربی شناخت اور اہلِ بیت علیہم السلام سے دیرینہ وابستگی کے باعث ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
اس خطہ میں جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے بعد پہلی بار عظیم حسینی عزاداروں کا باقاعدہ اجتماع منعقد کیا گیا، جس نے ترکی کی سرزمین پر شعائرِ عاشورا کی تجدید کا ایک نیا باب رقم کر دیا۔
ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس تاریخی واقعے کی تفصیلات یوں بیان کی ہیں:
ترکی کا جنوبی شہر ہاتائے، جو اسلامی تاریخ میں انطاکیہ کے نام سے معروف ہے، ایک غیر معمولی مذہبی و ثقافتی اجتماع کا میزبان بنا۔
یہ علاقہ ماضی میں بلادِ شام کا حصہ تھا، جہاں آبادی کی اکثریت عربوں، بالخصوص علوی شیعہ برادری، پر مشتمل ہے۔ اپنی عربی زبان، ثقافتی شناخت اور تاریخی ورثے کے باعث اس خطے کا اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے ہمیشہ گہرا تعلق رہا ہے۔
اسی تاریخی پس منظر میں مرکز امام حسین علیہ السلام نے جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے بعد پہلی بار عظیم حسینی عزاداروں کے اجتماع کا انعقاد کیا، جو ترکی کے معاشرے میں ثقافتِ عاشورا کے فروغ کی جانب ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یہ پروگرام ایسے وقت میں منعقد ہوا جب ہاتائے ابھی تک فروری 2023ء کے تباہ کن زلزلے کے اثرات سے مکمل طور پر نہیں سنبھل سکا، اور اس اجتماع نے متاثرہ عوام کے دلوں میں امید، حوصلے اور روحانیت کی نئی کرن پیدا کی۔
اس خطے میں ماہِ محرم کی عزاداری کی تاریخ سلطنتِ عثمانیہ کے دور تک پہنچتی ہے۔ عثمانی عہد میں علوی اور بکتاشی برادریوں کے ساتھ ساتھ بعض اہلِ سنت حلقوں اور شاہی دربار میں بھی مجالسِ عزا منعقد ہوتی تھیں، جن میں "حدیقۃ السعداء” جیسی معروف مقتل کی کتابیں پڑھی جاتی تھیں۔
انطاکیہ کے علوی شیعہ صدیوں سے گھروں اور مقامی زیارت گاہوں میں مجالسِ عزا برپا کرتے، نیاز تقسیم کرتے اور حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے آئے ہیں۔
تاہم سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے اور ترکی میں سیکولر جمہوری نظام کے قیام کے بعد مذہبی خانقاہوں، تکایا اور عوامی مذہبی شعائر پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اسی بنا پر موجودہ اجتماع کو جمہوری دور میں اس خطے کا پہلا باقاعدہ، علانیہ اور منظم حسینی اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تاریخی اجتماع میں مذہبی و سماجی شخصیات، ثقافتی رہنماؤں اور ہاتائے کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
پروگرام کے دوران مقررین نے واقعۂ کربلا کے اصلاحی، انسانی اور بین المذاہب پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ اس اجتماع کا مقصد دنیا بھر میں عاشورا کے امن، مکالمے، عدل اور اعلیٰ انسانی اقدار پر مبنی پیغام کو عام کرنا ہے۔
انطاکیہ میں منعقد ہونے والا یہ تاریخی اجتماع اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ کربلا کا ابدی پیغام مختلف معاشروں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے اور اس قدیم خطے کی مذہبی و تاریخی شناخت ایک بار پھر نئی توانائی کے ساتھ اُجاگر ہو رہی ہے۔




