غیر درجہ بندی

شامِ غریباں میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کے اہم بیانات

واقعۂ عاشورا کو عظیم ترین الٰہی امتحان قرار دیا، زائرین اربعین کے لئے مفت رہائش اور آمد و رفت کی سہولت پر زور

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی نے شامِ غریباں کے موقع پر اپنے خطاب میں حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی المناک شہادت پر دنیا بھر کے مؤمنین کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ تحریک کربلا پوری انسانیت کے لئے ایک دائمی اور مسلسل الٰہی امتحان ہے۔ آپ نے شعائرِ حسینی کے احیا و فروغ میں مصروف خادمان کی خدمات کو سراہتے ہوئے تعجیلِ ظہورِ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لیے کثرت سے دعا کرنے، زائرانِ امام حسین علیہ السلام کی خدمت کے دائرے کو مزید وسیع کرنے اور دنیا بھر میں امام بارگاہوں کے قیام و فروغ پر زور دیا۔

اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی یہ خصوصی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:

حضرت سلطانِ عشق، سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی شامِ غریباں کی مجلس بیت مرجعِ عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں مکتبِ عاشورا سے وابستہ ہزاروں عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام نے شرکت کی۔

اپنے پُراثر خطاب میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے دنیا بھر کے مؤمنین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے واقعۂ کربلا کے فکری، تاریخی اور تربیتی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

آپ نے اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ روزِ عاشورا شیعوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کو تعزیت و تسلیت پیش کریں۔

آپ نے مزید فرمایا کہ عصرِ غیبت میں تمام مشکلات کے حل اور حقیقی نجات کا واحد راستہ حضرت ولیِ عصر ارواحنا فداہ کے ظہور میں تعجیل کے لئے کثرت سے دعا کرنا ہے۔

واقعۂ عاشورا کے ملکوتی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ روزِ عاشورا فرشتوں نے اہلِ بیت علیہم السلام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے دشمنانِ امام حسین علیہ السلام کو ہلاک کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن مشیتِ الٰہی یہ تھی کہ امام حسین علیہ السلام کو مخلوق کے لئے سب سے بڑا ذریعۂ امتحان قرار دیا جائے، تاکہ اسی امتحان کے ذریعہ حق و باطل کی پہچان ہو اور انسانوں کا انجام متعین ہو۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا کہ امام حسین علیہ السلام کے تمام باوفا اصحاب اس عظیم امتحان میں سرخرو ہوئے اور جنت کے مستحق قرار پائے، لیکن یہ الٰہی آزمائش سنہ 61 ہجری سے آج تک جاری ہے۔ آج بھی ہر انسان کا امتحان یہی ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے پیغام کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے۔

آپ نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے امام حسین علیہ السلام کو جاودانی بقا عطا فرمائی ہے، جبکہ ان کے تمام مخالفین تاریخ کے صفحات سے مٹ چکے ہیں اور ان کا کوئی اثر باقی نہیں رہا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا کہ روزِ عاشورا سب سے افضل عمل یہ ہے کہ انسان اہلِ مصیبت کی ہیئت و کیفیت اختیار کرے۔ اسی مناسبت سے آپ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضرت سعد بن معاذؓ کے جنازے میں ننگے پاؤں شریک ہونے کا واقعہ بھی بیان فرمایا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے شعائرِ حسینی پر ماضی میں عائد پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عراق میں صدامی حکومت اور بعض ادوار میں ایران میں عزاداری اور مجالسِ حسینی کے انعقاد پر سخت پابندیاں تھیں، یہاں تک کہ ایک عرصہ تک ایران میں علانیہ مجالس کا انعقاد ممکن نہ تھا۔ تاہم آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شعائرِ حسینی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہیں، لہٰذا سب کو چاہیے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ اخلاص، جذبے اور محنت کے ساتھ ان کی ترویج و اشاعت میں حصہ لیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے زائرینِ امام حسین علیہ السلام کی خدمت کرنے والوں، بالخصوص مواکب کے منتظمین، کو عظیم اجر و ثواب کا مستحق قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ زائران کی خدمت کرنے والوں کو زائرین کے ثواب میں بھی شریک کیا جاتا ہے۔

آپ نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ زائرینِ اربعین کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے، خصوصاً ویزا کے اجراء میں آسانی، کربلائے معلیٰ میں مفت رہائش اور مفت آمد و رفت کا مؤثر انتظام یقینی بنایا جائے۔

آخر میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے زیارتِ اربعین کے انتظامات کو مزید بہتر بنانے، دنیا بھر میں امام بارگاہوں کی تعمیر، مرحوم شیخ محمد جواد بلاغی کی علمی خدمات کے فروغ، اور مجالسِ حسینی کے عالمی سطح پر انعقاد و ترویج کی دعوت دیتے ہوئے تمام خادمانِ شعائرِ حسینی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button