ایران

کیا جنگ کے بعد کی آزادیاں قمہ زنی تک بھی پہنچیں گی؟

حالیہ مہینوں میں خطہ میں جنگی حالات کے بعد ایران میں بعض سماجی پابندیوں، خصوصاً حجاب سے متعلق ضوابط کے نفاذ میں نسبتاً نرمی دیکھی گئی ہے۔ بعض مواقع پر حکام نے بھی ماضی کے مقابلہ میں مختلف طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔

ان تبدیلیوں کے تناظر میں شیعہ برادری کے ایک حلقے میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا اس نئی فضا کے نتیجے میں بعض مذہبی رسوم و شعائر، بالخصوص قمہ زنی، پر عائد پابندیوں میں بھی نرمی آ سکتی ہے؟

قمہ زنی کئی برسوں سے ایران میں ممنوع قرار دی جاتی رہی ہے اور اس کے انعقاد کو سیکیورٹی اور انتظامی اداروں کی جانب سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس دوران متعدد عزاداروں کو گرفتاری، طلبی، تفتیش اور عدالتی کارروائیوں جیسے اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

بعض سماجی شعبوں میں سختی کے کم ہونے کے ساتھ ہی یہ سوال ایک بار پھر سامنے آیا ہے کہ ایران میں آزادیِ عقیدہ اور مذہبی آزادیوں کی حدود کیا ہیں؟ کیا آزادیِ انتخاب صرف بعض سماجی اور ثقافتی طرزِ زندگی تک محدود ہے، یا اس میں وہ مذہبی رسوم بھی شامل ہیں جن کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں؟

ماہِ محرم کے قریب آنے کے ساتھ اس موضوع نے دوبارہ توجہ حاصل کر لی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ متعلقہ ادارے قمہ زنی کے انعقاد کے حوالے سے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی کریں گے یا نہیں۔

قمہ زنی پر پابندی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر انفرادی اور سماجی آزادیوں کے دائرے کو وسیع کرنے کی بات کی جا رہی ہے تو یہ سوال بدستور موجود ہے کہ آیا یہ اصول ان شیعہ افراد اور گروہوں پر بھی لاگو ہوگا جو اپنے روایتی مذہبی شعائر اور مراسم کے انعقاد کے خواہاں ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب، اس مسئلہ پر مختلف مذہبی، سماجی اور قانونی نقطۂ نظر بھی موجود ہیں، جس کے باعث یہ موضوع ہر سال محرم الحرام کے قریب آتے ہی بحث و گفتگو کا مرکز بن جاتا ہے۔ فی الحال متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے کسی نئی پالیسی یا باضابطہ فیصلے کا اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button