دنیا

نوعمروں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کا عالمی رجحان؛ آسٹریلیا سے متحدہ عرب امارات تک

دنیا بھر میں نوعمروں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیوں اور ضابطوں کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ مغربی اور ایشیائی ممالک کی جانب سے اس سلسلے میں اقدامات کے بعد اب متحدہ عرب امارات بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے پہلے عرب ملک کے طور پر پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس فیصلے کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایک سال کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ قانونی عمر سے کم صارفین کے اکاؤنٹس کی نشاندہی کرکے انہیں حذف کریں۔ بصورتِ دیگر متعلقہ کمپنیوں کو بھاری مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد بچوں اور نوعمروں کو نامناسب مواد، غیر محفوظ آن لائن روابط اور سوشل میڈیا کی لت جیسے خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، متحدہ عرب امارات سے قبل آسٹریلیا، برطانیہ، انڈونیشیا، ملائیشیا اور ترکی بھی سولہ سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق سخت قوانین نافذ کر چکے ہیں۔

ان پابندیوں کو والدین کی بڑی تعداد نے مثبت قدم قرار دیا ہے اور ان کے نزدیک یہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو منظم کرنے اور ان کی حفاظت یقینی بنانے کا ایک مؤثر قانونی ذریعہ ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے نفاذ میں متعدد عملی مشکلات موجود ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے نوعمر صارفین عمر کی تصدیق کے نظام کو باآسانی نظرانداز کر لیتے ہیں، جس کے باعث پابندیوں کی مؤثریت کم ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اس صورتِ حال میں والدین کے لیے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مؤثر نگرانی کرنا بھی زیادہ دشوار ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے نزدیک سوشل میڈیا کے استعمال پر عمر کی بنیاد پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ والدین کی رہنمائی، ڈیجیٹل تعلیم اور محفوظ آن لائن ماحول کی فراہمی بھی ضروری ہے تاکہ نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے محروم کیے بغیر ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button