خبریںدنیا

یونیسف کا تشویشناک انتباہ: دنیا کے تقریباً تمام بچے شدید موسمیاتی خطرات کی زد میں

تیزی سے بدلتے موسمی حالات اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحرانوں نے دنیا بھر میں بچوں کی صحت، سلامتی اور مستقبل کو ایک غیر معمولی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

بچوں کی جسمانی اور عمرانی کمزوریوں کے باعث وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بالغ افراد کی نسبت کہیں زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی زندگی، تعلیم اور نشوونما کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

یہ تشویشناک صورتِ حال اس امر کی متقاضی ہے کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کیا جائے اور ایک ممکنہ انسانی بحران سے بچنے کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رویٹرز کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ادارۂ اطفال (یونیسف) کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 1.8 ارب افراد شدید خشک سالی اور 1.2 ارب افراد شدید گرمی کی لہروں کے خطرات سے دوچار ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دنیا کے تقریباً تمام بچے کم از کم ایک سنگین موسمیاتی خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ یونیسف نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط اور پائیدار بنیادی ڈھانچے، موسمیاتی موافقت (Climate Adaptation) کے منصوبوں اور مؤثر آفات سے نمٹنے کے نظام میں فوری سرمایہ کاری کریں، تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button