برطانیہ کی جیلوں میں مسلمانوں کے خلاف پوشیدہ امتیاز کے نئے شواہد سامنے آگئے

ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برطانیہ کے عدالتی نظام اور جیلوں میں مسلمان قیدیوں کو مختلف قسم کے امتیازی مسائل کا سامنا ہے۔ تحقیق کے مطابق مسلمان قیدیوں کے ساتھ بعض معاملات میں ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے جو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں زیادہ سخت اور غیر مساوی سمجھا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارہ "مڈل ایسٹ آئی” کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق مسلمان قیدی انتظامی پابندیوں، نگرانی اور ضابطہ جاتی کارروائیوں کا غیر متناسب طور پر زیادہ سامنا کرتے ہیں۔
فلاحی اور سماجی تنظیم "مصلحہ” کی جامع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان قیدی نہ صرف سخت تادیبی سزاؤں کی زد میں زیادہ آتے ہیں بلکہ انہیں روزگار کے مواقع، تعلیمی پروگراموں، تربیتی سرگرمیوں اور مراعاتی منصوبوں تک رسائی بھی نسبتاً کم حاصل ہوتی ہے۔
رپورٹ میں اس صورتحال کو "پوشیدہ امتیاز کی ثقافت” قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ قوانین کی سطح پر مساوات اور مذہبی آزادی کی ضمانت موجود ہے، لیکن عملی طور پر بعض انتظامی پالیسیوں اور رویوں کے نتیجے میں مسلمان قیدیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تنظیم نے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جیلوں میں مراعات، سہولتوں اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے تاکہ تمام قیدیوں کے ساتھ بلاامتیاز اور منصفانہ سلوک یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتِ حال شہری حقوق سے متعلق قوانین اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ عملی برتاؤ کے درمیان موجود فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر نگرانی، شفاف پالیسیوں اور اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ برطانیہ کے تعزیری نظام میں مساوات اور انصاف کے اصولوں کو مکمل طور پر نافذ کیا جا سکے۔




