اسلامی دنیا

اعمال ماہِ محرم

ماہِ محرم الحرام کی پہلی شب میں شب بیداری اور اس کے پہلے دن کا روزہ رکھنا، حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری برپا کرنے کے ساتھ، اس مقدس مہینے کے سب سے زیادہ تاکید شدہ اعمال میں شمار ہوتا ہے۔

ماہِ محرم، شیعوں کی عظمت، حق کی باطل پر قطعی اور یقینی فتح، اور ایثار و قربانی کا مہینہ ہے جو کل سے آغاز پذیر ہو رہا ہے۔

ائمۂ اطہار علیہم السلام اور بزرگانِ دین نے ماہِ محرم کی راتوں اور دنوں کے لئے متعدد مستحب اعمال بیان فرمائے ہیں، جن پر عمل کرنا اس بابرکت مہینہ کے روحانی فیوض و برکات حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

پہلی شبِ محرم کے اعمال

نماز

پہلی شبِ محرم کے لئے متعدد نمازیں وارد ہوئی ہیں، جن میں سے ایک دو رکعت نماز ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورۂ توحید پڑھی جاتی ہے۔

اس نماز کی فضیلت میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص یہ نماز ادا کرے اور اس کے بعد والے دن روزہ رکھے، وہ امن و سلامتی میں رہے گا، اور اسے ایسا اجر عطا کیا جائے گا گویا اس نے پورا سال نیکی اور عبادت پر استقامت اختیار کئے رکھی ہو۔

اسی طرح پہلی شبِ محرم میں شب بیداری، دعا، مناجات اور عبادت بھی نہایت مستحب اعمال میں شمار ہوتے ہیں۔

یکم محرم کے اعمال

یکم محرم؛ ہر قمری سال کا پہلا دن ہوتا ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے: "جو شخص اس دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو اسی طرح قبول فرمائے گا جس طرح حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا تھا۔”

اس دن ایک دو رکعت نماز بھی مستحب ہے، جس کے بعد تین مرتبہ یہ دعا پڑھی جائے: "اللّٰهُمَّ أَنْتَ الْإِلٰهُ الْقَدِيمُ وَهٰذِهِ سَنَةٌ جَدِيدَةٌ فَأَسْأَلُكَ فِيهَا الْعِصْمَةَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَالْقُوَّةَ عَلَى هٰذِهِ النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ بِالسُّوءِ”

"بارِ الٰہا! تو ازلی و ابدی معبود ہے اور یہ نیا سال ہے۔ میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس سال مجھے شیطان کے شر سے محفوظ رکھ اور نفسِ امارہ پر غلبہ عطا فرما۔”

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ جو شخص محرم کی تیسری تاریخ کو روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ اسی طرح سات محرم کا روزہ بھی مستحب اعمال میں شامل ہے۔

شبِ عاشورا کے اعمال

اس مقدس شب کے لئے کئی نمازیں وارد ہوئی ہیں، جن میں سے ایک چار رکعت نماز ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد پچاس مرتبہ سورۂ توحید پڑھی جاتی ہے۔

نماز کے بعد ستر مرتبہ یہ ذکر پڑھا جاتا ہے: "سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ”

شبِ عاشورا میں عبادت، دعا، مناجات اور خصوصاً روضۂ امام حسین علیہ السلام کے جوار میں شب بیداری کرنا نہایت فضیلت کا باعث ہے۔

روایت میں آیا ہے کہ جو شخص اس شب کو عبادت میں بسر کرے، اسے ایسا اجر ملتا ہے جیسے اس نے تمام فرشتوں کی عبادت کے برابر عبادت کی ہو، اور اس رات کی عبادت ستر سال کی عبادت کے برابر شمار کی جاتی ہے۔

اور اگر کسی کو یہ سعادت حاصل ہو کہ وہ کربلائے معلیٰ میں ہو، امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے اور صبح تک حرمِ مطہر میں قیام کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے امام حسین علیہ السلام و شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرمائے گا۔

یومِ عاشورا کے اعمال

یومِ عاشورا میں دنیاوی مشاغل ترک کرکے حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی عزاداری میں مشغول ہونا سب سے اہم اور افضل عمل ہے۔

حضرت امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے: "جو شخص اس دن اپنے کاروبار اور دنیاوی مصروفیات کو ترک کرے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجات پوری فرمائے گا، اور جو اس دن کو غم و اندوہ کے ساتھ گزارے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کو اس کے لیے خوشی اور مسرت کا دن قرار دے گا۔”

اس دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔

یومِ عاشورا کا روزہ رکھنا مکروہ ہے، البتہ بہتر ہے کہ روزے کی نیت کے بغیر نمازِ عصر تک کھانے پینے سے اجتناب کیا جائے۔

زائرانِ امام حسین علیہ السلام کو پانی پلانا، ایک ہزار مرتبہ سورۂ توحید کی تلاوت کرنا، زیارتِ عاشورا پڑھنا اور ایک ہزار مرتبہ "اللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْحُسَيْنِ ” کہنا بھی اس دن کے مستحب اعمال میں شمار ہوتا ہے۔

اسی طرح اکیسویں محرم کا روزہ بھی مستحب اعمال میں شامل ہے۔

قمہ زنی

حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی بعض روایتی رسوم میں قمہ زنی کو عشقِ حسینی، والہانہ عقیدت اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے بے مثال وفاداری کے اظہار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ رسم عموماً عاشورا کی صبح، طلوعِ فجر کے وقت ادا کی جاتی ہے اور اسے امام حسین علیہ السلام اور آپ کے وفادار اصحاب کے مصائب و آلام میں مواسات، ہمدردی اور شرکت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

عزادار اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے اپنے عقیدے کی خاطر جان قربان کرنے کی آمادگی، شجاعت اور بے خوفی کا اظہار کرتے ہیں اور ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے اپنی وابستگی کی تجدید کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک یہ عمل مصائبِ کربلا کے غم میں تسکینِ قلب، شعورِ حسینی کی بیداری اور راہِ حق میں جانثاری کے عہد کی تجدید کا ایک مظہر ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button