یورپ

یورپی یونین کے نئے مہاجرتی معاہدے کا باضابطہ نفاذ؛ پناہ گزینوں کے قوانین اور سرحدی تعاون میں مزید سختی

یورپی یونین کے نئے مہاجرتی معاہدے کا باضابطہ نفاذ؛ پناہ گزینوں کے قوانین اور سرحدی تعاون میں مزید سختی

یورپ میں گیارہ سال قبل بڑے پیمانے پر پناہ گزینوں کی آمد سے شروع ہونے والا مہاجرتی بحران بالآخر ایک مشترکہ قانونی ڈھانچے کی تشکیل پر منتج ہو گیا۔

’’پناہ اور مہاجرت کا معاہدہ‘‘، جو آٹھ سالہ طویل مذاکرات اور رکن ممالک کے درمیان مسلسل اختلافات کے بعد تجویز کیا گیا تھا، اب باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد مہاجرین کے داخلے کے عمل پر مزید سخت سکیورٹی پابندیاں عائد کرنا اور یورپی یونین کے ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

ریڈیو فرانس انٹرنیشنل کی خبر کے مطابق، یہ معاہدہ ایک پیچیدہ قانونی نظام پر مشتمل ہے جس میں 9 ضوابط اور ہدایات شامل ہیں۔ ان میں فنگر پرنٹ کے ڈیٹا بیس، ملک بدری کے طریقہ کار اور پناہ گزینوں کی پذیرائی سے متعلق قوانین شامل ہیں۔

اس معاہدے کے تحت یورپی ممالک پابند ہوں گے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک 21 ہزار پناہ کے متلاشی افراد کو آپس میں تقسیم کریں، یا پھر ہر ایسے فرد کے بدلے جسے قبول نہ کیا جائے، 20 ہزار یورو یکجہتی فنڈ میں جمع کرائیں۔

رپورٹ میں یورپی پارلیمنٹ کے حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سابقہ ’’کھلے دروازوں‘‘ کی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہوئی، لہٰذا اب پناہ کے درخواست گزاروں کی ابتدائی جانچ پڑتال 48 گھنٹوں کے اندر مکمل کی جائے گی۔

تاہم مختلف رپورٹس سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ یورپی یونین کے بعض رکن ممالک ابھی تک ان نئے اور زیادہ سخت طریقہ کار کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button