ہرات میں کشیدگی کا تسلسل؛ خواتین و لڑکیوں کی گرفتاری پر عوامی احتجاج کے کچلنے پر میڈیا اور بین الاقوامی اداروں کا وسیع ردعمل

ہرات کے شیعہ اکثریتی علاقہ "جبرئیل ٹاؤن” میں عوامی احتجاج، جو لباس کے بہانے درجنوں خواتین اور لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد شروع ہوئے، طالبان فورسز کے شدید کریک ڈاؤن اور براہِ راست فائرنگ کا شکار ہوئے۔”کام، تعلیم اور آزادی” کے نعروں کے ساتھ ہونے والے ان مظاہروں میں کم از کم ایک 11 سالہ بچہ مارا گیا اور کئی دیگر زخمی یا گرفتار ہوئے۔اس پرتشدد کارروائی نے علاقہ کی سکیورٹی صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔روزنامہ "8 صبح” کے مطابق ہیومن رائٹس واچ HRW نے رپورٹ دی ہے کہ طالبان نے اس کریک ڈاؤن میں ضرورت سے زیادہ تشدد و زور استعمال کیا اور یہاں تک کہ لوگوں کے گھروں اور موبائل فونز کی تلاشی بھی لی۔اسی طرح فارسی ایندیپندنٹ نیوز ایجنسی نے کچھ سیاسی شخصیات اور میڈیا کارکنوں کے حوالے سے لکھا کہ وہ اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، اور علاقہ کے مکینوں نے برقع جلانے جیسی مہموں کے ذریعہ ان پالیسیوں پر احتجاج کیا ہے۔ادھر ریڈیو فردا نے رپورٹ کیا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین اور رچرڈ بینیٹ نے ان من مانی گرفتاریوں کی مذمت کی ہے اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی کنونشنز، بشمول خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمہ کے کنونشن، پر عمل کریں۔




