صحت اور زندگی

"فرینک سائن”؛ کان کی لو پر موجود ایک لکیر جو دل کی بیماریوں کا انتباہی اشارہ ہو سکتی ہے

"فرینک سائن”؛ کان کی لو پر موجود ایک لکیر جو دل کی بیماریوں کا انتباہی اشارہ ہو سکتی ہے

دل کی بیماریوں کی معروف اور روایتی علامات، جیسے سینے میں درد اور سانس پھولنے کے علاوہ، جسم پر ایک عجیب ظاہری نشانی بھی موجود ہے جس نے حالیہ برسوں میں طبی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔

کان کی لو (نرمی والے حصے) پر ایک ترچھی یا مورب شکن، جسے "فرینک سائن” کہا جاتا ہے، دل کی کورونری شریانوں کی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

امریکی اخبار "نیویارک پوسٹ” کے مطابق، اس علامت کو پہلی بار ڈاکٹر سینڈرز فرینک نے سینے کے درد میں مبتلا مریضوں کے معائنے کے دوران دریافت کیا تھا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس نشانی کا تعلق کورونری شریانوں کی بیماری، فالج (اسٹروک) اور شریانوں کے سخت ہونے (ایتھروسکلروسیس) سے ہو سکتا ہے۔

محققین کے مطابق خطرے کی شدت اس وقت زیادہ سمجھی جاتی ہے جب یہ گہری لکیر دونوں کانوں کی لو میں موجود ہو اور پوری لو کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلی ہوئی ہو۔

سائنس دانوں نے اس رجحان کی مختلف توجیہات پیش کی ہیں۔ ان میں جلد کے لچک دار ریشوں (الاسٹن) کی کمی شامل ہے، جو خون کی نالیوں میں بھی اسی طرح رونما ہوتی ہے۔ ایک اور نظریے کے مطابق دو اہم پروٹینز، ایڈروین اور آئرسن کی سطح میں کمی شریانوں میں چربی اور پلاک کے جمع ہونے کے عمل کو تیز کر دیتی ہے۔

ماہرینِ صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ "فرینک سائن” بذاتِ خود دل کی بیماری کی قطعی تشخیص نہیں ہے، بلکہ ایک اضافی انتباہی علامت ہے۔ اگر یہ نشانی ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا سگریٹ نوشی جیسے دیگر خطراتی عوامل کے ساتھ موجود ہو تو فوری طور پر دل کے معائنے اور طبی مشورے کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button