ذہن کو بھی چھٹیوں کی ضرورت ہے؛ کیا دائمی رابطے کے اس دور میں اور آج کی زندگی میں ذہنی سکون ممکن ہے؟
ذہن کو بھی چھٹیوں کی ضرورت ہے؛ کیا دائمی رابطے کے اس دور میں اور آج کی زندگی میں ذہنی سکون ممکن ہے؟
ایسے حالات میں جب انسان کی روزمرہ زندگی بلند حجمِ اطلاعات، پے در پے اطلاعیوں اور رقمی مراسلات سے بندھی ہوئی ہے، یہ سنجیدہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا انسانی ذہن، جسم کے ساتھ ساتھ، حقیقی چھٹیوں اور آرام کا محتاج ہے یا نہیں؟
یہ وہ موضوع ہے جسے ایک نئے پاڈکاسٹ میں توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔
میرے ساتھی کی اس رپورٹ پر توجہ دیں :
دائمی رابطے کے اس دور میں انسانی ذہن اب صرف بیداری کے اوقات میں ہی متحرک نہیں رہتا، بلکہ جسمانی آرام کی گھڑیوں میں بھی اطلاعات کی پردازش، فیصلہ سازی اور بیرونی محرکات پر ردِّعمل میں مشغول رہتا ہے۔
یہ صورتحال رفتہ رفتہ ایک نوع کی پوشیدہ تھکاوٹ کو جنم دیتی ہے جسے نفسیات کے ماہرین ”ذہنی خستگی” سے تعبیر کرتے ہیں۔
اسی سلسلے میں رسانہ ”ٹی آر ٹی فارسی” نے ”ذہن کو بھی چھٹیوں کی ضرورت ہے” کے عنوان سے ایک پاڈکاسٹ میں اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ذہن کی مکمل بازسازی کے لیے محض نیند اور جسمانی آرام کافی نہیں ہے۔
اس پاڈکاسٹ میں یہ بات اٹھائی گئی کہ آج کی رقمی فضا میں ذہن چھٹیوں کے دوران بھی اطلاعات کے بہاؤ سے جدا نہیں ہو پاتا اور یہی امر حقیقی سکون کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
اس رسانے کی جانب سے شائع کردہ مضامین کی بنیاد پر، بیشتر افراد نیند یا چھوٹی کے بعد بھی تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس دوران ان کا ذہن خبروں، پیغامات اور روزمرہ کی فکروں میں الجھا رہتا ہے۔
یہ مسئلہ بعض نفسیاتی تجزیوں میں بھی تسلیم کیا گیا ہے اور اس صورتحال کو مزید بگاڑنے والے عوامل میں شمار کیا گیا ہے؛ یعنی وہ کیفیت جس میں ذہن مسلسل خیالات اور پریشانیوں کی تکرار میں مبتلا رہتا ہے۔
اس پاڈکاسٹ میں ڈیجیٹل فضا سے آگاہانہ فاصلے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے اور اس ضمن میں ارتباطی شبکوں کے استعمال میں کمی، مخصوص اوقات میں رقمی خاموشی اختیار کرنے اور ذہنی تسکین کی مشقوں جیسے حل پیش کیے گئے ہیں۔
یہ طرزِ فکر بعض علمی مصادر میں بھی ذہنی دباؤ میں کمی اور توجہ کی استعداد بڑھانے کے ذریعے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
بالآخر، ان جائزوں سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آج کا انسان اپنا ذہنی توازن برقرار رکھنے کے لیے محض جسمانی آرام کا محتاج نہیں، بلکہ اسے اطلاعات کے پیہم بہاؤ کو روکنے اور ذہنی بازسازی کا موقع فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔
یہ وہ امر ہے جو موجودہ digital طرزِ زندگی میں ایک اجتناب ناپذیر ضرورت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔




