غدیر ایک مکمل نظام ہے: مولانا سید رضا حیدر زیدی
غدیر ایک مکمل نظام ہے: مولانا سید رضا حیدر زیدی
لکھنؤ: عیدِ غدیر (5 جون 2026ء) کے موقع پر شاہی آصفی مسجد میں نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزۂ علمیہ حضرت غفران مآبؒ، لکھنؤ کی اقتدا میں ادا کی گئی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ اس نے ہمیں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی ولایت و امامت جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔
عیدِ غدیر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غدیر آسمانی فیصلہ تھا، جبکہ سقیفہ زمینی منصوبہ بندی تھی۔ غدیر نصِ نبویؐ کا اعلان تھا، جبکہ سقیفہ انسانی مشاورت کا نتیجہ تھا۔ غدیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخاطب تھے، جبکہ سقیفہ میں قبائل کے درمیان گفتگو ہو رہی تھی۔ غدیر پیغامِ وحی کا میدان تھا، جبکہ سقیفہ سیاسی مصلحتوں کا منظر تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غدیر میں "من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ” کی گونج تھی، جبکہ سقیفہ میں "مِنّا أمیرٌ ومِنکم أمیرٌ” کا نعرہ بلند کیا گیا۔ غدیر وحدتِ امت کا معیار تھا، جبکہ سقیفہ قیادت کے تعین کا اختلافی مرحلہ بن گیا۔ غدیر ولایت کا منشور تھا، جبکہ سقیفہ خلافت کا معاہدہ تھا۔ غدیر رضائے الٰہی کا اظہار تھا، جبکہ سقیفہ مصلحتِ وقت کا مظہر تھا۔ غدیر دین کے اکمال کا اعلان تھا، جبکہ سقیفہ سیاسی نظام کی تشکیل کی ایک کوشش تھی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ غدیر میں بیعتِ ولایت تھی، جبکہ سقیفہ میں بیعتِ حکومت۔ غدیر کا مرکز ہدایت تھا اور سقیفہ کا مرکز سیاست۔ غدیر نے امام کو متعین کیا، جبکہ سقیفہ نے حاکم کو منتخب کیا۔ غدیر تسلسلِ رسالت کا اعلان تھا، جبکہ سقیفہ آغازِ خلافت کا دعویٰ۔ غدیر کا سرچشمہ وحیِ الٰہی تھا، جبکہ سقیفہ کو اجتہادِ صحابہ کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ غدیر عہدِ الٰہی تھا اور سقیفہ عہدِ بشری۔ غدیر کا محور فضیلت تھی، جبکہ سقیفہ کا محور مصلحت۔ غدیر نے امت کو امام دیا، جبکہ سقیفہ نے امت کو خلیفہ دیا۔ غدیر کا سوال یہ تھا کہ "خدا کسے چاہتا ہے؟” جبکہ سقیفہ کا عنوان تھا کہ "لوگ کسے چاہتے ہیں؟”
انہوں نے کہا کہ غدیر نے ہمیں ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیا، جبکہ سقیفہ نے ظلم کو جواز فراہم کیا۔
اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ "اگر غدیر کے سلسلے میں واضح نبوی نص موجود تھی تو صحابۂ کرام نے سقیفہ میں خلیفہ کیوں منتخب کیا؟” مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں بھی متعدد مواقع پر احکامِ نبویؐ کی نافرمانی کی گئی۔ میدانِ اُحد میں نافرمانی ہوئی، صلحِ حدیبیہ کے موقع پر اعتراضات سامنے آئے، لشکرِ اسامہ میں شمولیت کے حکم کی تعمیل نہیں کی گئی اور واقعۂ قرطاس میں بھی حکمِ نبویؐ کی مخالفت کی گئی۔ لہٰذا اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی زندگی میں نافرمانی ممکن تھی تو وصالِ رسولؐ کے بعد بھی ایسا ہونا بعید نہیں۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا کہ غدیر ایک فکر، ایک مکتب اور ایک مکمل نظام ہے، اور غدیر کو وہی صحیح معنوں میں سمجھ سکتا ہے جو عاشورا کے پیغام کو سمجھتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ غدیر اور عاشورا عدل و ولایت کے دو اہم مراحل ہیں۔ یہ دونوں ایک ہی الٰہی مشن کے دو رخ ہیں؛ غدیر نے ولایت و قیادت کا اعلان کیا جبکہ عاشورا نے اس ولایت کے تحفظ کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عاشورا کو صرف عزاداری تک محدود کرنے کے بجائے ظلم کے خلاف قیام اور اجتماعی ذمہ داری کے عنوان سے سمجھنا ضروری ہے۔
موجودہ عالمی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ دنیا میں وسائل کی نہیں بلکہ عدل و انصاف کی کمی ہے۔ چند طاقتیں عالمی وسائل اور فیصلوں پر قابض ہیں جبکہ کمزور اقوام ظلم، محرومی اور ناانصافی کا شکار ہیں۔
انہوں نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے نظامِ حکومت کو عدل، مساوات، جواب دہی اور مظلوموں کی حمایت کا بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ، یمن اور دیگر خطوں میں جاری مظالم اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انسانیت غدیر کے پیغامِ عدل و ولایت سے دور ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی انصاف، انسانی وقار اور عالمی امن کے قیام کے لیے غدیر کے اصولوں کی طرف رجوع ناگزیر ہے۔




