23 ذی الحجہ: حضرت مسلم علیہ السلام کا وصیت نامہ امام حسین علیہ السلام تک پہنچا

امام حسین علیہ السلام کا قافلہ “زرود” اور “ثعلبیہ” سے گزرتے ہوئے 23 ذی الحجہ 60 ہجری بروز ہفتہ “زبالہ” کے مقام پر پہنچا۔ زبالہ ایک آباد گاؤں تھا جس کا بازار زمانۂ جاہلیت میں مشہور تھا، اور وہاں ایک قلعہ اور مسجد بھی موجود تھی جو بنی اسد سے منسوب تھی۔
اکثر مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کو حضرت عبداللہ بن یقطر اور قیس بن مسہر صیداوی—جو امامؑ کے کوفہ بھیجے گئے قاصد تھے—کی شہادت کی خبر اسی منزل زبالہ میں ملی۔ بعض مورخین نے اس خبر کے ملنے کا وقت دیگر مقامات پر بھی ذکر کیا ہے، لیکن زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ غمناک خبر سب سے پہلے زبالہ ہی کے مقام پر امام حسین علیہ السلام تک پہنچی۔ البتہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ بعد کے منازل میں بھی یہ خبر دوبارہ آپؑ کو دی گئی ہو۔
روایت ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام زبالہ پہنچے تو محمد بن اشعث اور عمر بن سعد کا قاصد آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کا وہ خط پیش کیا جو انہوں نے وصیت کے طور پر لکھا تھا اور امامؑ تک پہنچانے کی ہدایت کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے وہ خط پڑھا۔ جب آپؑ نے حضرت مسلم علیہ السلام اور ہانی بن عروہ رضوان اللہ تعالی علیہ کی شہادت کی خبر کی تصدیق دیکھی تو شدید رنج و غم میں مبتلا ہو گئے۔ یہ غم اس وقت اور زیادہ بڑھ گیا جب قیس بن مسہر کی شہادت کی خبر بھی آپؑ تک پہنچائی گئی۔
اس موقع پر امام حسین علیہ السلام کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ ان کے رخسار پر جاری ہو گئے۔ آپؑ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: “فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا”
یعنی: “ان میں سے بعض نے اپنا عہد پورا کر دیا (اور اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے) اور بعض ابھی انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔”
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو یہ خبر سنائی اور فرمایا: “ہمیں ایک انتہائی غمناک اور دل دہلا دینے والی خبر ملی ہے، اور وہ یہ کہ مسلم بن عقیل، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن یقطر شہید کر دیے گئے ہیں، اور کوفہ کے لوگوں نے ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ اب جو واپس جانا چاہے تو اسے اجازت ہے، اس پر کوئی ملامت نہیں، کیونکہ اس پر کوئی ذمہ داری لازم نہیں ہے۔”
روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے کئی ساتھی، جو دنیاوی لالچ یا منصب و مقام کی امید میں آپؑ کے ساتھ شامل ہوئے تھے، یہ خبر سن کر آپؑ کے قافلے سے جدا ہو گئے اور بیابان کا رخ کر لیا۔ صرف اہلِ بیت علیہم السلام اور چند وفادار اصحاب ہی آپؑ کے ساتھ باقی رہ گئے۔
کہا جاتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے یہ اعلان اس لئے فرمایا تاکہ بعض عرب یہ نہ سمجھیں کہ آپؑ کسی ایسے شہر کی طرف جا رہے ہیں جہاں کے لوگ آپؑ کے تابع ہیں، بلکہ آپؑ چاہتے تھے کہ آپ کے ساتھی اس راستے کی حقیقت کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس میں قدم رکھیں اور آنے والی مشکلات سے باخبر ہوں۔
اسی منزل پر امام حسین علیہ السلام کی ملاقات بنی عکرمہ کے ایک شخص عمرو بن لوذان سے بھی ہوئی۔ اس نے پوچھا:
“آپ کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں؟”
امامؑ نے فرمایا: “میں کوفہ جا رہا ہوں۔”
اس شخص نے عرض کیا: “میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اس راستے سے واپس لوٹ جائیں، کیونکہ آپ نیزوں اور تلواروں کا سامنا کرنے جا رہے ہیں۔ اگر وہ لوگ جنہوں نے آپ کو خطوط اور قاصد بھیجے ہیں، جنگ کے اخراجات برداشت کرتے اور آپ کے لئے ہر طرح کے انتظامات مکمل کر چکے ہوتے تو جانا درست ہوتا، لیکن جس صورت حال کا آپ ذکر فرما رہے ہیں اس میں کوفہ جانا مناسب نہیں۔”
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: “اے اللہ کے بندے! جو کچھ تم نے کہا وہ مجھ سے پوشیدہ نہیں، تمہاری رائے درست ہے؛ لیکن اللہ کے فیصلے پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔”




