28 ذی الحجہ؛ جب حضرت قیس علیہ السلام کی خبر شہادت سن کر امام حسین علیہ السلام نے اشک بہائے

کربلا کی جانب رواں دواں امام حسین علیہ السلام کا قافلہ 28 ذی الحجہ کو مقام عُذَیبُ الہجانات پہنچا۔ یہ وہ منزل تھی جہاں کوفہ سے چند افراد قافلۂ حسینی میں شامل ہوئے اور اسی مقام پر سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کو اپنے مخلص اور وفادار صحابی و سفیر حضرت قیس بن مسہر صیداوی علیہ السلام کی شہادت کی دلخراش خبر موصول ہوئی۔ اس خبر نے امام کو غمگین کر دیا اور آپ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
حضرت قیس بن مسہر علیہ السلام قبیلۂ بنی اسد کی شاخ بنی صیداء سے تعلق رکھتے تھے اور قیامِ حسینی میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ آپ کی سب سے نمایاں ذمہ داری امام حسین علیہ السلام اور اہلِ کوفہ کے درمیان خطوط اور پیغامات کی ترسیل تھی۔ کوفیوں کے دعوت نامے مکہ میں امام حسین علیہ السلام تک پہنچانے سے لے کر حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کے خطوط امامؑ کی خدمت میں پیش کرنے اور پھر امام حسین علیہ السلام کے جوابی پیغامات کوفہ پہنچانے تک، قیس بن مسہر علیہ السلام نے نہایت دیانت اور اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کے سفر اور ان کی جدوجہد میں بھی شریک رہے اور مختلف مراحل میں رابطے کا اہم ذریعہ بنے۔
جب امام حسین علیہ السلام نے مقامِ حاجر سے اہلِ کوفہ کے نام اپنا پیغام روانہ کیا تو اس کی ترسیل کی ذمہ داری بھی حضرت قیس بن مسہر علیہ السلام کو سونپی گئی۔ تاہم قادسیہ کے قریب عبیداللہ بن زیاد کے کارندوں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ روایت کے مطابق گرفتاری کے وقت آپ نے امام حسین علیہ السلام کا خط پھاڑ دیا تاکہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکے اور اس طرح اپنے فرضِ امانت کو آخری لمحے تک نبھایا۔
عبیداللہ بن زیاد نے حضرت قیس علیہ السلام کو اپنے سامنے پیش کیا اور رہائی کے بدلے یہ شرط رکھی کہ وہ عوام کے سامنے امام حسین علیہ السلام کے خلاف گفتگو کریں۔ لیکن قیس بن مسہر علیہ السلام نے حق و صداقت کا علم بلند رکھتے ہوئے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔ جب انہیں لوگوں کے مجمع میں خطاب کا موقع ملا تو انہوں نے امام حسین علیہ السلام، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور اہلِ بیت علیہم السلام کی حقانیت کا اعلان کیا اور عبیداللہ بن زیاد کے ظلم و جور کو بے نقاب کر دیا۔ ان کی جرأت و استقامت سے خائف ہو کر عبیداللہ نے انہیں قصرِ کوفہ کی چھت سے نیچے پھینک دینے کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
حضرت قیس بن مسہر علیہ السلام کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا شمار شہدائے کربلا میں ہوتا ہے اور ان کا نام زیارتِ عاشورا میں بھی مذکور ہے۔ وہ ان خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی جان امامِ وقتؑ کی نصرت اور دینِ خدا کی سربلندی کے لئے قربان کر دی۔
جب طرماح بن عدی نے امام حسین علیہ السلام کو قیس بن مسہر علیہ السلام کی شہادت کی خبر سنائی تو آپؑ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اس موقع پر امامؑ نے سورۂ احزاب کی آیت 23 تلاوت فرمائی: "فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا” (مؤمنوں میں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کو سچ کر دکھایا اور شہادت پا لی، اور کچھ اب بھی منتظر ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔)
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے دعا فرمائی: "بارِ الٰہا! ہمارے اور ان کے لئے جنت مقدر فرما اور ہمیں اپنی رحمت کے سایۂ عاطفت اور اپنے عظیم اجر و ثواب میں ان کے ساتھ جمع فرما۔”
قیامِ کربلا کے وفادار اصحاب کی یہی وہ نمایاں خصوصیت تھی کہ اگرچہ ان کی تعداد کم تھی، لیکن ایمان، بصیرت، استقامت اور وفاداری میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ وہ جانتے تھے کہ امام حسین علیہ السلام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرزند اور خاندانِ نبوت کے درخشاں چراغ ہیں، اس لئے انہوں نے ہر قیمت پر حق کا ساتھ دیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔
قیامِ حسینی دراصل دینِ اسلام کی بقا، ظلم کے خلاف مزاحمت اور حق و باطل کے درمیان واضح خطِ امتیاز قائم کرنے کی عظیم تحریک تھی۔ اگرچہ اہلِ کوفہ نے ابتدا میں امام حسین علیہ السلام کی حمایت کا اعلان کیا، لیکن بعد میں ان کی بے وفائی اور عہد شکنی نے تاریخ کا ایک المناک باب رقم کیا۔ تاہم امام حسین علیہ السلام اور ان کے وفادار ساتھیوں، جن میں حضرت قیس بن مسہر علیہ السلام بھی شامل ہیں، نے اپنے خون سے حق و صداقت کی ایسی شمع روشن کی جو قیامت تک انسانیت کو آزادی، وفاداری اور ایثار کا درس دیتی رہے گی۔



